فلسطینی وزیر اعظم کے پولیٹیکل ایڈوائزر ڈاکٹر یوسف رزقہ نے زور دیا ہے کہ خطے میں پھیلنے والا انتشار بالآخر مسئلہ فلسطین کے مفاد میں ہوگا جس سے اسرائیل کو اپنے زوال کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ ڈاکٹر یوسف رزقہ نے یہ بات ہفتے کے روز خبر رساں ایجنسی ”وکالہ” کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں کی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 50 کے لگ بھگ ممالک میں بیک وقت نکالے گئے القدس انٹرنیشنل مارچ سے کچھ اہداف حاصل ہوگئے ہیں۔ پورے مقاصد کے حصول کے لیے عرب دنیا کے رہنماؤں، علماء اور دیگر قائدین کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
عرب رضا کاروں اور دیگر غیر ملکیوں کی جانب سے القدس ملین مارچ میں بھرپور شرکت سے ثابت ہوگیا کہ یہ حقوق کے حصول کی اس جنگ میں فلسطینی قوم کے ساتھ ہیں۔ اسرائیل کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس طرح کی سرگرمیاں اس کے لیے شدید خطرہ بنتی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ القدس پر اسرائیلی قبضے کو چھیالیس سال گزر چکے ہیں اور چھیالیس سال بعد آج فلسطینی قوم اپنی سرزمین کے حصول اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے موقف پر سب سے زیادہ ڈٹی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا ”القدس ملین مارچ” نے عرب اور اسلامی دنیا کو اس بات پر ابھارا ہے کہ وہ مسجد اقصی، القدس اور فلسطین کے دفاع کے لیے اسرائیل کے ساتھ عمومی تعلقات کی بحالی سے گریز کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ امت مسلمہ پر طاری حالیہ جمود کے باوجود فلسطینی قوم اپنی آزادی پر مسلسل اصرار کر رہی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ اس معرکے میں فلسطینی مزاحمت ساری امت کی نمائندگی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ جنگ ”کنکر کے پتھر” کے بعد فلسطینی آزادی مزید قریب آگئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
