مقبوضہ فلسطین میں قبلہ اول کو شہید کر کے اس کی جگہ یہودیوں کا مزعومہ ‘ہیکل’ تعمیر کرنے کی داعی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی انتہا پسند یہودی تنظیموں نے اتوار کے روز مسجد اقصی کے داخلی دروازوں کے سامنے اجتجاجی مارچ کی کال دی ہے۔ اس مارچ کی آڑ میں انتہا پسند تنظیمیں مسجد اقصی پر حملہ کرنا چاہتی ہیں۔
یہودی تنظیموں نے یہ کال اسرائیلی پولیس کی جانب سے صہیونی جھتوں کو شب معراج کے موقع پر قبلہ اول پر دھاوا بولنے سے روکنے کا ردعمل بتائی جاتی ہے۔
اسرائیلی پولیس نے اسراء اور معراج کی شب مسجد اقصی کے مراکشی دروازے کے باہر ایک نوٹس آویزاں کر رکھا تھا جس پر یہ تحریر درج تھی: "جمعرات مسلمانوں کی تعطیل ہے، اس لئے ‘جبل البیت’ یعنی مسجد اقصی میں یہودیوں کا داخلہ قطعی طور پر بند ہو گا۔”
یہودیوں کے لئے مسجد اقصی بند کرنے کے فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مزعومہ ہیکل تعمیر کی پرچارک انتہا پسند یہودی انجمنوں نے اپنے ہمخیال یہودیوں پر زور دیا ہے کہ تو نو جون بروز اتوار مسجد اقصی کے باہر احتجاجی مارچ میں شرکت کریں۔
ان انجمنوں نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی پولیس نے ہمیں اتوار کے روز احتجاجی پروگرام نہ کرنے دیا تو ہم اسے کسی اگلے موقع تک مٶخر کر دیں گے لیکن اسے منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ "ہم مسجد اقصی پر ہلہ بول کر ہی دم لیں گے۔”
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
