اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی حکومت نے متروکہ جائیداد قانون کو حرکت میں لا کر مغربی کنارے اور القدس میں فلسطینیوں کی ملکیتی املاک پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
صہیونی حکومت کے قانونی مشیر یہودا وینسٹائن اس سلسلے میں اسرائیلی سپریم کورٹ میں جواب بھی جمع کروا چکے ہیں جس میں کہا گیا ہے مقبوضہ مشرقی القدس میں کسی بھی فلسطینی کی ملکیتی جائیداد پر متروکہ املاک قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس قانون کے بموجب فلسطینیوں کی جائیداد کی حفاطت اسرائیل کی ذمہ داری ہے اور مٶخر الذکر جب چاہئے اسے اپنی تحویل میں لے سکتا ہے۔
‘متروکہ املاک قانون’ اسرائیلی پارلیمنٹ نے 1950 میں منظور کیا تھا جس کے بعد صہیونی ریاست نے بیت المقدس سے ہجرت کرنے والے فلسطینیوں کی متروکہ املاک کو اس قانون کا سہارا لیکر بحق سرکار ضبط کرنا شروع کر رکھا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
