انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے تضامن فاونڈیشن کا کہنا ہے کہ فلسطینی اسیرات کی رہنما لینا جربونی ابھی تک صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔
فاونڈیشن کے ریسرچر احمد بیتاوی نے بتایا ہے کہ اسرائیلی جیل سروسز نے لینا کو علاج معالجے کی مناسب سہولتیں فراہم کرنے سے انکاری ہے خاص طور پر جبکہ ان کو ایک فوری سرجری کی ضرورت ہے۔
بیتاوی نے کہا کہہ اسیرہ اس شدید درد کی وجہ سے نہ سو پارہی ہے اور نہ ہی صحیح طریقے سے کھا پارہی ہے جس کے نتیجے میں ان کے وزن میں بہت حد تک کمی واقع ہوگئی ہے۔ جربونی کی صحت دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور انہیں پتہ میں شدید درد کی وجہ سے سرجری کی ضرورت ہے۔
ایک اسیرہ منی قعدان نے فاونڈیشن کے وکیل کو بتایا کہ ھشارون جیل میں مقید فلسطینی اسیرات نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ جیل انتظامیہ کی لینا جربونی کو نظرانداز کرنے کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔
لینا کو 2002ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور انہوں نے 12 سال قید کاٹ بھی لی ہے۔ وہ واحد خاتون قیدی ہیں جو کہ وفا الاحرار ڈیل کے بعد بھی جیل میں مقید رہی ہیں۔
اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی خواتین کے خلاف حراستی مہمات کا سلسلہ تیز کردیا ہے جس سے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیرات کی تعداد بڑھ کر 19 ہوگئی ہے، ان تمام خواتین کو ھشارون جیل میں رکھا گیا ہے اور وہاں پر قیدیوں کے حالات انتہائی ناموزوں ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
