اسیر سامر عیساوی کے وکیل نے بتایا ہے کہ سامر کو راملہ جیل کے کلینک سے شطا جیل منتقل کئے جانے کے بعد سے انکی صحت بتدریج گرتی جا رہی ہے۔
فلسطینی اسیران سوسائٹی کے وکیل نے حال ہی میں سامر عیساوی سے جیل میں ملاقات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی 9 ماہ کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کو ایک خاص خوراک کی ضرورت ہے کیوںکہ اتنی لمبے دورانیے کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کو بہت کمزوری ہو گئی ہے اور ان کے جسم کے اہم اعضاء میں مسائل جنم لے رہے ہیں۔
شطا جیل میں حالات بہت خراب ہیں خاص طور پر گرمیوں کے دوران حبس اور درجہ حرارت میں اضافے سے مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں جس سے اسیران کی صحت پر اثر پڑتا ہے۔
سامر کے شطا میں تبادلے سے پہلے انہوں نے راملہ جیل میں کلینک کے ڈاکٹر سے خاص خوراک فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ان کی صحت مزید خراب نہ ہو، مگر ان کے مطالبے کو نظر انداز کردیا گیا۔
سامر عیساوی ابھی بھی جسم میں شدید درد اور نیند نہ آنے کی شکایت کرتے ہیں جبکہ ان کے جسم کے اہم اعضاء بھی مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
