اسرائیل اور فلسطین کے تاجروں اور کاروباری شخصیات کے درمیان معمول کے تجارتی تعلقات قائم کرنے کی کوششوں پر فلسطین بھر کی تجارتی یونین سراپا احتجاج ہوگئی ہیں۔ تجارتی یونین، الائنسز اور قومی تحریک نے اسرائیل کے ساتھ عمومی سطح کے تعلقات کو یکسر رد کر دیا ہے۔
تجارتی یونینز کے اتحاد کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان، جس کی ایک کاپی ”مرکز اطلاعات فلسطین” کو بھی موصول ہوئی’ میں کہا گیا ہے کہ ہم ”ڈیڈ لاک توڑو” کے نام سے شروع کیے جانے والے منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، دشمن نے فلسطینی قوم اور اس کے مقدس مقامات کے خلاف اپنے جرائم اور غزہ کا ظالمانہ محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے، ان سب محاذوں پر اس کی دستبرداری لازم ہے۔
تجارتی یونینز کے الائنس نے فلسطینی قوم کے مسلمہ حقوق پر ثابت قدم رہنے کا اعلان کیا اور اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کے حوالے سے ملاقاتوں کو مسترد کردیا۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں اقتصادی اور تجارتی تعلقاتکی بحالی کے نام پر مغربی کنارے کے شہر جنین سے تعلق رکھنے والے بزنس مینوں کےایک وفد نے اسرائیلی کاروباری شخصیات سےملاقاتیں کی تھیں۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے نام نہاد اسرائیلی ریاست کے شہر حیفا میں بھی دونوں جانب کے کاروباری حضرات نے ایک ملاقات کر کے دوطرفہ تعاون کے شعبوں کے متعلق اظہار خیال کیا تھا۔
فلسطینی تاجر اتحاد نے بتایا کہ حالیہدنوں فلسطین بزنس مینوں کےایک گروپ نے تجارتی قوانین کے حوالے سے اسرائیلی کاروباری حضرات کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ کمپنی قائم کی ہے، اس کمپنی کے سالانہ اخراجات پانچ ملین ڈالز ہیں۔
ادھر فلسطینی بچوں اسرائیلیشہر ”حولون” کے ایک گراؤنڈ میں فٹ بال کے ایک میچ میں شرکت کی ہے۔ اس میچ کو ”دو متحد ہمسائے” کا عنوان دیا گیا تھا۔ اس فٹ بال میچ کا انتظام امن کے لیے سرگرم معروف تنظیم ”مفعلوت” نے یورپی یونین کے تعاون سے کیا تھا۔
فلسطینی تاجر یونیز کے اتحاد کا کہنا تھا کہ فلسطین کے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تجارتی تعلقات کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے سلسلے کی آخری کڑی ڈیوس اکانومک کانفرنس ہے جس میں فلسطینی اور اسرائیلی بزنس مینوں نے شرکت کی ہے۔
تاجر الائنس نے زور دیا کہ جان کیری کے ”اقتصادی امن” پروگرام اور اس پر اسرائیلی صدر شمعون پیریز کی تعریف کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل کے سائے میں کوئی اقتصادیات نہیں اور اسرائیل کے زیر سایہ رہ کر آزادی ممکن ہی نہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
