فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل القدس کی عرب اور اسلامی شناخت کو مسخ کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہے تاہم القدس کے ثقافتی ااور دینی آثار مٹانے اور مسجد اقصی سمیت اس پورے شہر کو یہودیانے کی جدوجہد میں اسے اس سلسلے میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
شمالی غزہ کی پٹی میں مسجد عمر بن عبد العزیز میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ ”اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات کے دوران مقبوضہ بیت المقدس کی عرب اور اسلامی شناخت کی متعدد نشانیوں کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم نے 20 سال اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی نذر کردیے مگر نتیجہ صفر رہا اور ان مذاکرات کا سارا فائدہ اسرائیل کو ہی ملا۔
انہوں نے خبر دار کیا کہ القدس اور مسجد اقصی کو اس وقت خطرناک اسرائیلی سازشوں کا سامنا ہے۔ جب سے اسرائیل نے القدس پر قبضہ کیا ہے وہ اسراء اور معراج کی یادگار مسجد اقصی اور اس بابرکت شہر کو یہودی رنگ میں رنگتا جارہا ہے۔ فلسطینی قوم لڑکھڑا رہی ہے اور اس کے مقدس مقامات کو روندا جارہا ہے۔ اس کے وزراء کو بے دخل کردیا گیا ہے اور اس کے اراکین پارلیمان پر حملے جاری ہیں۔
انہوں نے اسراء اور معراج کے واقعے کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت اپنی امت اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں ۔ لیکن ہمارا پورا بھروسہ، ساری امیدیں اور اطمینان اس بات پر ہے کہ حالیہ القدس کو یہودیانے کی حالیہ لہر اسی طرح بیٹھ جائے گی جیسا کہ اس سرزمین سے گزرنے والی صلیبی دور ، تاتاریوں اور منگولوں کے دور کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسراء اور معراج کے واقعے کی یاد اور مسئلہ فلسطین کے تصفیے یا اسے سبوتاژ کرنے کی کوششوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس ضمن میں حالیہ دنوں امریکی وزیر خارجہ جان کیری ”اقتصادی امن” کا منصوبہ لیکر میدان میں آئے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے امریکی روٹی کے ٹکڑوں کے عوض قوم سے ان کے مسلمہ حقوق اور ثابت قدمی کو چھیننا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فلسطینی اسرائیل کے زیر تحت اور زیر نگیں رہنے کو قبول کرلیں۔
انہوں نے اسراء اور معراج کے واقعے کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے اور مسئلہ فلسطین کے تصفیے اور اس کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں تعلق ہے۔ جان کیری کا حالیہ ”اقتصادی امن” منصوبہ بھی فلسطینیوں کو روٹی کے چند ٹکڑوں کے عوض اپنے حقوق سے دستبردار کرانے اور اسرائیل کے زیر سایہ زندگی گزارنے پرمجبور کرنے کی ایک سازش ہے۔ اقتصادی امن منصوبہ بنانے والوں کی خواہش ہے کہ قوم اقتصادی امن اور سیالیت آلود دولت لے کر اپنی قربانیوں، اپنے اسیران اور شہداء کو بھول جائے۔
انہوں نے حالیہ امریکی منصوبے کو سیاسی دھوے اور فراڈ پر مشتمل پلان قرار دیا اور کہا کہ اس منصوبے کا مقصد القدس کی تاریخ اور فلسطینی قوم کے عقائد کو مسخ کرنا ہے اور فلسطین اور اسرائیل کے مابین مذاکرات کی فلم دوبارہ چلوانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی دستبرداری کی صورت میں دولت کی ترغیب اسلام دشمنی کا ہی ایک ذریعہ ہے۔ امریکا کی جانب سے آنے والے ہزاروں ملین ڈالرز کے بدلے میں سیاسی دستبرداری، دشمن کے ساتھ معمول کے تعلقات، اراضی کا تبادلہ، سکیورٹی تعاون اور حق واپسی سے رجوع کرنا پڑے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ ہمیں ان اقتصادی منصوبوں کے مقابلے میں اللہ کے گھروں میں تربیت پانے والی مومنین کی ان نسلوں کی مشکلات کو یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے معرکہ فرقان، کنکر کے پتھر، انتفاضہ الاقصی اور دیگر معرکوں میں بندوق اٹھائی تھی اور قربانی اور جہاد کے علم کو بلند کیا تھا، ہمیں ان نسلوں کو یاد نہیں کرنا چاہیے جنہیں امریکی اور اس کے اتحادیوں نے پروان چڑھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی نسل نے کھڑے پانے میں ارتعاش پیدا کردیا ہے اور اب یہ ارتعاش عرب بہاریہ کی صورت بن چکا ہے۔ عرب دنیا کی تمام تحریکیں فلسطینی جہاد سے متاثر ہیں۔
سانحہ ماوی مرمرہ
دوسری جانب اسماعیل ھنیہ نے 31 مئی 2010 کو غزہ آنے والے امدادی بحری قافلے فریڈم فلوٹیلا میں شریک ترک بحری جہاز ماوی مرمرہ پر اسرائیلی بحریہ کے حملے میں نو ترک رضاکاروں کی شہادت کی یاد میں کہا کہ اس قافلے نے ترکی کی فلسطین، القدس اور غزہ کے لیے اسلامی، اخلاقی اور انسانی ہمدردی کو واضح کردیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج اس سانحے کو تین سال مکمل ہونے پر ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کی ثابت قدمی کی وجہ سے ترکی اسرائیل کے سامنے سرخرو ہے۔ ترکی نے اسرائیل سے معذرت کرنے، شہداء کے لواحقین کو معاوضہ دینے اور غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کی تین شرائط پیش کی تھیں، ترک وزیر اعظم کے اپنے موقف پر ڈٹ جانے کی بنا پر اسرائیل کو معافی مانگنا پڑی اور شہداء کے لواحقین کو معاوضے پر بات چیت جاری ہے۔
اس موقع پر اسماعیل ھنیہ نے شہداء کے لواقین کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے حقوق سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل کو کسی ملک کے مطالبے کے بعد اس سے معافی مانگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسرائیل ایسا اسی وقت کرتا ہے جب اسے معلوم ہو کہ اس کے بڑے مفادات پر زد پڑ رہی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
