اسرائیل سے شائع ہونے والے ہفتہ روزہ جریدے ‘یروشلم’ نے اپنی حالیہ اشاعت مین انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی یہودی بستیوں میں 4195 نئے مکانات تعمیر کئے جائیں گے۔ یہ منصوبے عملدرآمد کے لئے تیار ہیں۔
القدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے اعداد و شمار دیتے ہوئے جریدے نےانکشاف کیا کہ سن 2012ء میں صرف 43، سن 2010 میں 73 ، سن 2011 میں 705 جبکہ سن 2009ء میں 1378 رہائشی یونٹس تعمیر کئے گئے۔ سن 2009-2012 کی مدت میں انہی علاقوں میں 8460 رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی۔
اسرائیل کے وزیر ہاوسنگ اور تعمیرات اوری ارئیل نے صہیونی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے اجلاس کو بتایا کہ ہمارے پاس 2500 رہائشی یونٹس مارکیٹ کرنے کا منصوبہ تیار ہے، اسے ہم آج ہی شروع کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں رکاوٹ ہمارا اپنا فیصلہ ہے، وزارت مالیات کی جانب سے ہم پر ان رہائشی یونٹس کی تعمیر پر کوئی قدغن نہیں ہے۔
یہودیوں کے لئے رہائشی یونٹس کے جن بڑے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے اس میں شفعاط پہاڑی میں واقع رمات شلومو یہودی بستی میں 1500 جبکہ بسغات رئیف میں 695 رہائشی یونٹس کی منظوری شامل ہے۔ دوسرے منصوبوں میں یہودی بستی جیلو میں 900 مکانات کا منصوبہ شامل ہے اس کی شہری منصوبہ بندی ڈویژن سے منظوری لینا ضروری ہے۔
ادھر اسرائیلی میونسپلٹی کے سربراہ نیر برکات نے وعدہ کیا ہے کہ القدس شہر میں مزید ہوٹل بنائے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سیاح یہاں آئیں۔
مبصرین نے خدشتہ ظاہر کیا ہے القدس شہر میں ہوٹلوں کی تعداد میں اضافہ اہالیاں قدس کی زمین ہتھیا کر کیا جائے گا۔ یاد رہے قابض اسرائیلی حکام نے گزشتہ برس مئی میں جنوبی القدس کی بلدیہ صفافا میں گیفعات ھمتوس یہودی بستی کے علاقے میں ایک ہزار کمروں پر مشتمل نو ہوٹل تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی۔
