مرکز کے مطابق حالیہ دنوں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی بحالی سے قبل ان اسیران کی رہائی کی خبروں نے ایک بار پھر ان قیدیوں کو امید و یاس کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ ان قیدیوں کی تشویش اور انتظار کے ساتھ ساتھ توقعات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
مرکز احرار کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے بتایا کہ اوسلو معاہدے سے قبل کے ان قیدیوں کو یہ خبریں سنتے ہوئے 20 سال گزر چکے ہیں، ہر مرتبہ جب بھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات کا ڈول ڈالا جاتا ہے یا کسی اعلی سطحی مہمان کی آمد ہوتی ہے، ان قیدیوں کو قید و بند کی صعوبتوں سے رہائی کی ”نوید” بھی سنا دی جاتی ہے، مگر یہ وعدے پانی پر لکیر ثابت ہوتے ہیں۔
فواد الخفش نے بتایا کہ اوسلو کے سیاسی معاہدے کے بنیادی نکات میں اسیران کے تبادلے کی بات کی گسی تھی، یہ وہ بات تھی جس کا معاہدے پر دستخط کے بعد ذکر ہی نہیں کیا گیا، اور اس وقت سے فلسطین کے انتہائی اہم اسیران اسرائیلی جیلوں سے بدستور قید و بند کی صعوبتیں کاٹ رہے ہیں، صرف یہ ہی بلکہ جلد رہائی کی جھوٹی خوش خبریاں سنا کر ان کی اور ان کے اہل خانہ کی تکلیف کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔
باراک اوباما کے دوسری بار امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد فلسطین کے دورے کے موقع پر بھی یہ خبر پھیلائی گئی کہ اب اوسلو معاہدے سے قبل کے متعدد اسیران کو رہا کردیا جائے گا۔ اس خبر کی جیلوں میں بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ اسی موقع پر فلسطینی اسیر رہنما کریم یونس نے بھوک ہڑتال کا آغاز کردیا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ اس خبر میں کتنی سچائی تھی۔
فواد الخفش نے بتایا کہ جان کیری کی آمد کے موقع پر بھی بالکل یہ منظر نامہ بنا دیا گیا، اسی طرح ہر اہم شخصیت کے دورہ فلسطین کےموقع پر کیا جاتا ہے۔ قدیم اسیران کی رہائی کی امیدیں پیدا کرکے انہیں پھر سے مایوس کردیا جاتا ہے۔ فواد الخفش نے کہا کہ اسرائیل کے اس رویے سے قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اسرائیل کے اس رویے کا مقصد قیدیوں کو نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنانا ہے۔
فواد الخفش نے کہا کہ اوسلو معاہدے کو 20 سال گزرنے کے باوجود 80 قیدیوں کا رہا نہ کیا جانا خود اوسلو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت 842 فلسطینی قیدی ایسے ہیں جن پر معمولی نوعیت کے الزامات ہیں، جن کو فی الفور رہا کردینا چاہیے۔
انہوں نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے قیدیوں بالخصوص قدیم اسیران کے معاملے کو کسی بھی مذاکرات کی بنیادی شرائط میں شامل کریں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
