• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فلسطینی اتھارٹی القدس کے تحفظ میں سنجیدہ نہیں: پروفیسر قاسم

بدھ 22-05-2013
in فلسطین
0
plf 22 kasim
0
SHARES
3
VIEWS

مغربی کنارے کے شہر نابلس کی نجاح یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر عبد الستار قاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے یونیسکو کے وفد کو القدس کے دورے سے روکنا عرب دنیا اور بین الاقوامی تنظیموں اورعالمی برادری کی توہین ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اس جارحانہ اقدام پر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے کوئی ردعمل نہ آنے ناقابل فہم ہے، جس سے ثابت ہوگیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی مسجد اقصی، القدس اوردیگر اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ میں سنجیدہ نہیں ہے۔

سیاسیات کے استاذ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے مفادات اسرائیل کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (UNESCO) کو القدس کے دورے سے روکنے پر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان پہلے سے اتفاق ہو چکا تھا کیونکہ اسرائیل پہلے ہی بین الاقوامی تنظیموں اور ان کی قراردادوں کو تسلیم نہیں کرتا۔

اردن کے روزنامے ”السبیل” سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل عرب حکومتوں کے لیے نہیں بلکہ عرب قوم اور امت مسلمہ کے لیے خطرہ ہے۔ یہی قومیں اپنے نظاموں کو اس لیے تحفظ دے رہی ہیں کیونکہ حکومتیں طاقتور ہیں۔ اسی صورتحال میں عرب ممالک کی جانب سے ٹھوس رد عمل کی امید کس طرح کی جا سکتی ہے؟

مسجد اقصی پر یہودی آباد کاروں کے حملوں میں تیزی پر بات کرتے ہوئے فلسطینی ماہر سیاسیات کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے یہ اصول اپنا رکھا ہے کہ جب خطے کے عرب ممالک نرمی کا مظاہرہ کریں اور اپنے داخلی مسائل میں الجھے ہوئے ہوں تو قبلہ اول پر حملوں میں اضافہ کردیا جائے اور اگر ان ممالک میں اسرائیل کے خلاف غم وغصہ بڑھ جائے تو حملے کم کردیے جائیں۔

یاد رہے کہ اسرائیلی ریڈیو یہ انکشاف کر چکا تھا کہ اسرائیل اور اردن کے درمیان امریکی واسطے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس میں یونیسکو میں اسرائیل کے خلاف ووٹنگ کے لیے آنے والی تمام قراردادوں کو نکال لیا جائے گا، اور صرف اس چیز کے بدلے میں ہی یونیسکو کے وفد کو القدس کی اولڈ میونسپلٹی کے آثار قدیمہ اور تاریخی ورثے کا جائزہ لینے کی اجازت دی جائے گی۔

بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.