مصری صدر محمد المرسی نے جمعہ کی شب فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کو ٹیلی فون کیا۔
وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے رات گئے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مرسی اور وزیر اعظم ھنیہ نے حالیہ سیاسی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ فلسطینی تنظیموں کے درمیان مصالحت کی کوششوں اور علاقے سلامتی اور سیکیورٹی کے امور پر بھی ٹیلیفونک گفتگو میں زیر بحث آئے۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماوں نے ٹیلفونک گفتگو کے اختتام پر مختلف ایشوز پر باہمی تبادلہ خیال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے نامعلوم افراد کے ہاتھوں مصری پولیس اور فوجی کے سات اہلکاروں کے اغوا کے بعد مصری پولیس نے غزہ کو مصر سے ملانے والی رفح کراسنگ بند کر دی تھی۔ ان میں چار افراد العریش کراسنگ میں خدمات سرانجام دیتے تھے۔ بعد میں مصری حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پولیس اور فوجی اہلکاروں کے اغوا میں جنوبی سینا کے بدو ملوث ہیں اور دونوں فریقین کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی کے لئے گفتگو جاری ہے۔
ادھر ایک دوسری پیش رفت میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے پولٹ بیورو کے رکن ڈاکٹر موسی ابو مرزوق نے ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مصری اہلکاروں کے اغوا میں حماس کے ملوث ہونے سے متعلق خبروں پر کان نہ دھریں کیونکہ ایسی تمام باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ابو مرزوق نے کہا کہ فلسطینی عوام کا مصری پولیس اور فوجی اہلکاروں کے خلاف کسی قسم کا معاندانہ رویہ نہیں ہے کہ وہ اپنے اختلافات کے حل کی خاطر ایسا طریقہ کار اختیار کریں۔
مصر اور غزہ کے درمیان زیر زمین سرنگوں سے متعلق موسی ابو مرزوق کا کہنا تھا کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ سرنگیں دراصل فریقین کے درمیان اس موضوع پر پائے جانے والے سیاسی اور قانونی خلا کی وجہ سے بنی ہیں۔ ابھی تک ان سرنگوں کے بارے میں قانونی موقف طے کرنا ضروری ہے۔
موسی مرزوق نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سطح زمین پر ہمارا تعلق فطری ہو۔ رفح کراسنگ کھلنے پر یہ معاملہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
