اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی انتظامی اسیران نے جون کے مہینے کے اوائل میں غیر معینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
نقب جیل کے اسیران کی تحریک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی انتظامی اسیران نے دو ہفتوں کے بعد اپنی رہائی کے لئے اور رہائی کی تاریخ بتائے بنا قید کے دورانیے میں توسیع کرنے کی پالیسی کے خلاف غیر معینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع نے قدس پریس کو بتایا کہ اسیران انتظامی حراست کی پالیسی کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں کہ جس کہ تحت فلسطینیوں کو بنا کسی مقدمے یا الزام کے گرفتار کرلیا جاتا ہے۔
فلسطینی انسانی حقوق کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 218 اسیران کو انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے، ان اسیران کی تعداد زیادہ تر نقب، عوفر، مجدو اور ھدیریم میں قید ہے۔
اسی دوران الخلیل سے تعلق رکھنے والے ایمن ابو دائود نے اپنی قید کے خلاف مسلسل 32 ویں روز بھی بھوک ہڑتال جاری کررکھی ہے۔
ایمن کے خاندان کے مطابق ایمن نے اپنی بھوک ہڑتال اس وجہ سے جاری رکھی ہے کیوںکہ وہ صیہونی حکام کے ان کی پرانی 36 سال قید کی سزا بحال کردی تھی اور وہ اس سزا میں سے پہلے 7 سال جیل میں بسر کر چکے ہیں۔
ایمن کے خاندان نے وفا الاحرار معاہدے کے تمام اداروں اور سپانسرز سے اپیل کی ہے کہ وہ قابض حکام کے عمل اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے مداخلت کریں۔
اسرائیلی حکام نے ابو دائود کو فروری 2012 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے 14 اپریل سے غیر معینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
