محاصرے کے خلاف قائم عوامی کمیٹی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اپریل کے مہینے کے دوران غزہ کی واحد کمرشل کراسنگ کرم ابو سالم کو 17 دنوں کے لئے بند کئے رکھا تھا۔
کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کراسنگ کی بندش کے آٹھ دنوں کے دوران چھٹیوں کا بہانہ بنایا گیا اور اس کے علاوہ نو دنوں کے دوران سیکیورٹی کا بہانہ گھڑ کر کراسنگ کو بند رکھا گیا۔
یہ بتایا گیا ہے کہ 2013 کے شروع سے اب تک کراسنگ کو 67 دنوں کے لئے بند کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے ابھی تک صوفہ، منتر اور شجائیہ کراسنگ کو بند کیا ہوا ہے۔
کمیٹی کے مطابق کرم ابو سالم کی 2013 میں بندش سے اب تک نجی سیکٹر کو 100 ملین ڈالر کے نقصانات ہوچکے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
