فلسطینی اسیرعطا عیاش کے خاندان نے ان کی رہائی کے لئے اپیل کی ہے۔ شیخ عیاش کو دو ہفتے قبل مغربی کنارے سے اردن جاتے ہوئے کرامہ پل پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ عیاش کی رہائش اردن میں ہے۔
ان کے خاندان نے ان کی حراست میں 12 دنوں کے اضافے کی مذمت کی ہے۔ 61 سالہ عطا عیاش کو تاج تکفا تفتیشی مرکز میں رکھا گیا ہے۔
عطا کے بیٹے مامون عیاش نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض حکام نے ان کے والد کو سلفیت کے علاقے رافت میں واقع آبائی گھر سے اردن واپسی پر کرامہ کراسنگ پر حراست میں لیا گیا تھا۔ مامون نے بتایا ہے کہ ان کے والد ہر سال رافت میں موجود رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے آتے ہیں۔
قیدیوں کے لئے کام کرنے والے احرار سنٹر کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ قابض حکام نے ان پر حماس سے تعلق رکھنے اور شہید یحییٰ عیاش کے گھروالوں کو پیسے دینے کا الزام لگایا ہے۔ عطا عیاش نے ان دونوں الزامات کو رد کر دیا ہے۔ خفش نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شیخ عطا عیاش شہید یحییٰ عیاش کے چچا ہیں۔ یحییٰ عیاش حماس کے عسکری رہنما تھے جو کہ 1996 میں قابض فوج کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
