اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے مغربی دیہاتوں کی جانب جانے والی شاہراہ کو بند کردیا ہے۔ یہ اقدام یہودی آباد کاروں کی حفاظت کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
عینی شاہدین نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو بتایا کہ دورا اور الخلیل کے قریبی متعدد دیہاتوں کے درمیان واقع شاہراہ کو لوہے کی بڑی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا گیا ہے تاکہ یہودی آباد کاروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اسرائیلی حکومت اس شاہراہ کو ہفتے کے روز اور دیگر یہودی مذہبی تہواروں کے موقع پر یہودی بستی ’’نجیھوت‘‘ کی جانب جانے کے لیے استعمال کریگی، اس شاہراہ کی بندش سے فلسطینی مسافروں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ اسرائیل اس سے قبل بھی متعدد بار اس شاہراہ کو بند کر چکا ہے جس کے بعد المجد، بیت عوا اور دیگر قریبی علاقوں کے فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور کام کے مقامات پر جانے کے لیے دوسرے طویل راستے اسعتمال کرنا پڑتے ہیں۔
دوسری جانب مغربی کنارے کے ٹاؤن بیت امر میں انتہاء پسند یہودی جتھے نے فلسطینیوں پر حملہ کردیا۔ مقامی افراد کے مطابق یہودی ٹولیوں کا تعلق یہودی بستی ’’بیت عین‘‘ سے تھا۔ حملہ آور یہودیوں نے فلسطینی شہریوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ان پر پتھراؤ کیا۔ شرپسندوں نے فلسطینی کسانوں کو اپنی زرعی اراضی میں داخل ہونے سے بھی روک دیا، یہ اراضی یہودی بستی کے قریب ہیں۔
یاد رہے کہ انتہاء پسند یہودیوں نے بیت امر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں فلسطینیوں پر حملوں، ان کی املاک کی توڑ پھوڑ اور زیتون کے درختوں کو اکھاڑنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس علاقے میں اسرائیلی فوج کی آشیر باد سے یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کو جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ آئے روز کے ان حملوں کا مقصد فلسطینیوں کو اس علاقے سے نقل مکانی پر مجبور کر نا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
