فلسطینی سرکاری رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی مریض اسیران کے ساتھ بدسلوکی کے قصے عام ہیں،
صہیونی انتظامیہ کے اہلکاروں نے ایک فلسطینی قیدی کو دو بار غلط طریقے سے انجیکشن لگا کر شدید نقصان پہنچا دیا ہے۔ دانت درد کے علاج کے دوران سن کرنے کے ٹیکے نے اسیر نعیم یونس محمد شوامرہ، 43 سالہ، کے اعصابی نظام کو تہ و بالا کردیا ہے۔ اس انجیکشن کے بعد ان کے بائیں حصے کے اعصاب کمزور پڑنے لگے جس سے ان کو چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے میں شدید دشواری کا سامنا تو تھا ہی مگر اب ان کو بولنے میں بھی شدید مشکل پیش آرہی ہے۔
صہیونی جلاد نما معالجوں کی اس بے احتیاطی کے سبب محمد الشوامرہ کو کھانا کھانے، چلنے پھرنے میں شدید دشواری پیش آرہی ہے۔ ان کے سر میں شدید درد رہنے لگا ہے۔ آنکھوں کے گرد حلقوں میں شدید درد ہے اور زبانی کے عضلات بھی ڈھیلے پڑ گئے ہیں۔
فلسطینی رپورٹ میں بتایا گیا کہ محمد الشوامرہ کو جیتے جی موت کے منہ میں دھکیلنے کے اس قصے کا آغاز پندرہ ماہ قبل ہوا جب ان کے دانتوں میں شدید درد ہوا، دانتوں کے علاج کے دوران اسرائیلی انتظامیہ کے اہلکار نے انہیں دانت اور گال سن کرنے کے دو ٹیکے لگائے، چودہ منٹ تک ان ٹیکوں کا اثر باقی رہا جس کے بعد محمد الشوامرہ کو محسوس ہونا شروع ہوا کہ ان کے بائیں گال میں کمزوری آگئی ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے ان کی زبان کے عضلات بھی ڈھیلے پڑنے لگے۔
فلسطینی وزارت برائے امور اسیران کے وکیل سے بات کرتے ہوئے محمد الشوارمہ نے بتایا کہ اس کے بعد وہ متعدد مرتبہ جیل کے شفا خانوں میں جا کر علاج کروا چکے ہیں مگر دی جانے والی ادویات سے ان کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ معاملہ خراب سے خراب تر ہوتا گیا۔ اب سر کی اگلی جانب، آنکھوں کے گرد اور گلے میں شدید درد رہنے لگا ہے۔
محمد الشوامرہ نے قسم کھاتے ہوئے بتایا کہ جب سے وہ عسقلان جیل میں آئے ہیں یہاں کے لوگوں نے انہیں نیند لانے کی ادویات کے علاوہ کوئی دوائی فراہم نہیں کی۔ ان کی مسلسل اور انتہائی شدید تکلیف کے باوجود انہیں قریبی صہیونی ہسپتال لے جایا گیا نہ ہی کسی ڈاکٹر کو جیل میں بلوا کر ان کا معائنہ کروایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی یہ حالت اسرائیلی اہلکار کی جانب سے لگائے گئے ٹیکوں کی وجہ سے ہے۔ برزلائی ہسپتال کے ذرائع بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں لیکن اب تک اس حوالے سے کسی قسم کی تفتیش کا آغاز نہیں ہو سکا۔
خیال رہے کہ روسی روزنامے نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام فلسطینی مریضوں کو موذی امراض میں مبتلا کرنے کے لیے مختلف وائرسز کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جان بوجھ کر مختلف وائرسز ان کے جسم میں داخل کردیے جاتے ہیں جس کے بعد یہ اسیران آہستہ آہستہ موت کی جانب سفر شروع کردیتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
