اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس نے ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوان سے اپیل کی ہے کہ وہ تحریک فتح کے کہنے پر غزہ کا دورہ ملتوی نہ کریں۔ حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری نے جمعرات کے روز کہا کہ ترک وزیر اعظم کو فتح کی درخواستوں پر غور نہیں کرنا چاہیے۔
’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ابو زھری کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے حال ہی میں ترک دارالحکومت انقرہ کا دورہ کیا جس کا مقصد رجب طییب ایردوان کو غزہ کے دورے سے روکنا تھا۔
حماس کے ترجمان نے کہا کہ تحریک فتح کا یہ گمان کہ اسے فلسطینی قوم کی نمائندگی کا حق حاصل ہے درست نہیں کیونکہ 2006ء کے عام انتخابات میں فتح نے 45 جبکہ حماس نے 74 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اسی طرح محمود عباس کی صدارت کی آئینی مدت بھی جنوری 2009ء میں ختم ہو چکی ہے۔ ان حقائق کی بنیاد پر فلسطینی قوم کی اصل نمائندہ جماعت فتح نہیں بلکہ حماس ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فتح کو چاہیے کہ وہ حماس کے خلاف اوچھے ہتھکنڈوں کی پالیسی سے باز رہے کیونکہ اس سے فلسطینی تنظیموں کے مابین ہونے والے مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد مزید مشکل ہوتا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایردوان کے دورہ غزہ سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ خیال رہے کہ ترک وزیر اعظم نے مئی میں غزہ کا دورہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
