فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ فلسطینی مزاحمت نے جس طرح اسرائیلی فوجی کے بدلے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرایا تھا، یہ آج بھی مزید قیدی رہا کرانے کی اہلیت رکھتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے غزہ میں عرب یوم یتامی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اپنے قیدیوں، شہدا، مسجد اقصیٰ، سرزمین اور بیت المقدس کو فراموش نہیں کرسکتے۔ ہم اپنی زمین اور اہل وطن کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کروانے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اسماعیل ھنیہ نے مزید کہا کہ فلسطینی یتیم بچے ہماری قومی زندگی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے صاحب ثروت عرب تاجروں اور مخیر حضرات ان یتیم فلسطینیوں کے لئے امدادی فنڈ شروع کرنے کی اپیل کی۔
ایک اور پیش رفت میں وزیراعظم ھنیہ نے غزہ کی مرکزی جیل سرایا کو قومی میوزیم بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا مقصد اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے معاملے کی بہتر وکالت کرنا ہے۔
اسیران اور رہائی پانے والے اسیروں کے لئے کام کرنے والی انجمن ‘واعد’ نے ھنیہ اور فلسطینی عہدیداروں اوراسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے فلسطینیوں کی موجودگی میں اس میوزیم کا افتتاح کیا۔
افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم اور دیگر مہمانوں کے سامنے فلسطینی اسیروں پر اسرائیلی جیلوں میں ہونے والے مظالم کی منظر کشی کی گئی اور اس کے علاوہ قیدیوں کی طرف سے بنائے گئی تصویروں اور دستکاریوں کی نمائش کی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
