فلسطینی مجلس قانون ساز کی رکن منی منصور کا کہنا ہے کہ غرب اردن کی بیرزیت یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابی نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ فلسطینی عوام کے دلوں میں گھر کرنے والی تحریک کو پکڑ دھکڑ اور طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا اشارہ طلبہ تنظیموں کے انتخابات میں حماس کے حامیوں کی کامیابی کی طرف تھا۔
تبدیلی اور اصلاح پارلیمانی گروپ سے تعلق رکھنے والے نابلس کی رکن اسمبلی نے قدس پریس سے بات کرتے ہوئے کہ وفا اسلامی گروپ کو امسال بیس نشتوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ اس سے قبل اسے انیس نشتوں پر کامیابی ملکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کا اگر اسرائیلی مظالم اور خود فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھوں گرفتاریوں سے کیا جائے تو اسے ‘بہترین کارکردگی’ کہا جا سکتا ہے۔
منی منصور نے مزید کہا کہ طلبہ یونین کے نتائج فلسطینی عوام کے موڈ کا پتا دیتے ہیں کہ جس میں ان کی مزاحمت کے پراجیکٹ سے گہری وابستی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غرب اردن میں سیاسی عمل پر کڑی نگرانی اور گرفتاریوں کے جلو میں اسلام پسند طلبہ کی یہ بڑی کامیابی ہے کیونکہ تمام تر حکومتی سرپرستی اور وسائل کے باوجود حکمران جماعت کا سرخیل یوتھ ونگ امسال 23 نشتیں حاصل کر سکا۔
خاتون رکن اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ اسلامی جماعت کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے طلبہ کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ آزادانہ ماحول میں سیاسی سرگرمیاں کر سکیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
