اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ بحر مرادار کے شمال کی جانب یہودی آباد کاری اور صہیونی فوج کے استعمال کے ضمن میں فلسطینیوں کی ایک لاکھ چالیس ہزار ایکڑ اراضی ہتھیا لی گئی ہے۔
عبرانی روزنامے ’’ھارٹز‘‘ نے اپنی جمعہ کی اشاعت میں بتایا کہ اسرائیل بحر مردار کے شمال کی جانب فلسطینی اراضی کو اسرائیلی فوجی ممنوعہ علاقہ قرار دیتا جا رہا ہے اور اب تک اس علاقے کی ایک لاکھ چالیس ہزار ایکڑ اراضی ہتھیائی جا چکی ہے۔ اس حوالے سے سول انتظامیہ نے زمین کی ملکیت کی فلسطینی درخواستوں کو رد کردیا تھا جس کے بعد یہ اراضی اسرائیلی فوج کے زیر قبضہ چلی گئی۔
عبرانی روزنامے کے مطابق یہ اراضی سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ اراضی گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بحر مردار کے پانی کے رخ کی تبدیلی کی بنا پر خشک ہوئی تھی۔
اس سے قبل اس اراضی کے قریبی فلسطینی گاؤں زعترہ، سواحرہ، دیر صالح اور تقوع کے رہائشیوں نے سول انتظامیہ کو درخواستیں دی تھیں جس میں 1967ء کے حالات کے مطابق اس اراضی پر اپنا حق مانگا گیا تھا۔ تاہم ان کی درخواستوں کو رد کردیا گیا تھا اور اس زمین کو ریاستی اراضی قرار دیدیا گیا تھا جس کے بعد سے اس اراضی کو یہودی آباد کاری اور فوج کے زیر استعمال لایا جا رہا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
