امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے فلسطین کے حالیہ دورے کے دوران اگرچہ فلسطینی اتھارٹی نے یہودی بستوں کی تعمیر روکے جانے تک اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی بحالی سے انکار کردیا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی عہدیداروں نے خفیہ ملاقاتیں شروع کردی ہیں۔
یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کی شرط کے بغیر مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداران اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس ضمن میں فلسطینی اتھارٹی کے مذاکرات کار صائب عریقات اور اسرائیلی رہنما اسحق مولخو کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ اس مرتبہ مذاکرات کی بحالی اوسلو معاہدے سے قبل گرفتار کیے گئے فلسطینی اسیران کی رہائی کی بنیاد پر ہو جائے گی اور اسرائیل کے اس اقدام کے بدلے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس مذاکرات سے قبل یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کی شرط سے دستبردار ہو جائیں گے۔
فلسطینی اتھارٹی کے مذاکرات کار صائب عریقات اس سے قبل انکشاف کر چکے ہیں کہ محمود عباس نے مشرق وسطی کے مسائل پر چار رکنی ثالثی کمیٹی ’’گروپ چار‘‘ کے اراکین کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے راضی کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
عریقات نے اتوار کے روز فلسطین میں جرمنی کے ترجمان جونیا ماٹسوارا سے اپنی ملاقات کے بعد بتایا کہ فلسطین اور اسرائیل کے مابین مذاکرات کی بحالی دونوں جانب سے کچھ مخصوص اقدامات اٹھائے جانے اور مذاکرات کا فریم ورک تیار کرنے کے بعد ہو گی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
