سن 1948ء میں فلسطین پر قبضہ کرکے بنائی گئی نام نہاد اسرائیلی ریاست کے عرب شہریوں نے صہیونی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کے ساتھ اظہار یک جہتی میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔ تمام بڑے شہریوں اور دیہاتوں میں اسرائیلی جیلوں کے سامنے، مرکزی شاہراہوں اور اہم مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے۔
اسیران اور رہائی پانے والے شہریوں کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ ایمن حاج یحیی نے بتایا کہ صہیونی عقوبت خانوں میں قید و بند کاٹنے والے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کی ان تقریبات کے حوالے سے تمام فلسطینی حلقوں میں قومی سطح پر رابطہ ہے۔ 48ء کے مقبوضہ فلسطین کے عرب شہریوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے تاہم ان سب رکاوٹوں اور مصائب کے باوجود اسیران سے یک جہتی کے ان تقریبات اور احتجاجی مظاہروں میں بڑی تعداد میں عوام شرکت کر رہے ہیں۔
الحاج یحیی نے خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مختلف شہریوں اور دیہاتوں میں تیس سے چالیس احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔ اسرائیلی جیلوں کے سامنے بھی احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔ کئی مقامات پر احتجاجی کیمپ لگا کر احتجاج کیا جائے گا۔ بالخصوص تل ابیب میں مصری سفارت خانے کے سامنے ریلی نکال کر مصر سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی جائے گی۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر احتجاجی دھرنے دے کر بھی اپنا موقف ساری دنیا تک پہنچایا جائے گا۔
فلسطینی رہنما نے بتایا اپنے اسیران کے ساتھ یک جہتی کی تقریبات کے انعقاد میں نوجوان پیش پیش ہیں ان میں فلسطین کے تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد شرکت کرینگے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
