فلسطینی مجلس قانون ساز کی رکن منی منصور نے القدس میں اسرائیلی عورتوں کی جانب سے فلسطینی خواتین کے ساتھ توہین آمیز سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔ کچھ روز قبل پیش آنے والے واقعے میں جارح صہیونی عورتوں نے اسرائیلی پولیس اہلکاروں کے سامنے ٹرین کے انتظار میں کھڑی فلسطینی لڑکیوں کے چہروں سے نقاب کھینچ لیے تھے۔
خاتون رکن پارلیمان نے اس واقعہ کو نسل پرستانہ جارحیت قرار دیا ہے۔ منی منصور نے صہیونی غنڈہ نما عورتوں کے فلسطینی لڑکیوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ القدس میں پیش آنے والا یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ فلسطینی عورت کو ہر روز اسرائیلی چیک پوسٹوں اور الخلیل اور دیگر شہروں میں اس طرح کے واقعات کا سامنا ہے۔
حیرت کی بات ہے دن رات خواتین کے حقوق اور عورتوں کی آزادی کا واویلا کرنے والے عالمی تنظیمیں فلسطینی خواتین پر جاری مظالم کا کوئی نوٹس نہیں لیتی۔ حتی کہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کی علم بردار تنظیمیں فلسطینی خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کے ان واقعات کا اپنی رپورٹوں میں بھی حوالہ نہیں دیتی۔ فلسطینی عورتوں کی دن رات تذلیل کا نشانہ بنائے جانے پر ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
فلسطینی رکن پارلیمان نے عورت کی عزت، آزادی اور وقار کے لیے سرگرم تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ نقاب لینے والی فلسطینی خواتین کو دہائیوں سے جاری اسرائیلی جارحیتوں سے نجات دلوائیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی عالمی تنظیموں کو فلسطینی خواتین کے حق میں جرائم پر اپنی مجرمانہ خاموشی توڑ کر اسرائیل کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
