مغربی کنارے کے شہر نابلس میں یہودی بستی ”الون موریہ” کے آباد کاروں نے مشرقی گاؤں سالم کی اراضی پر متعدد موبائل گھر تعمیر کرنا شروع کر دیے ہیں، جو اس علاقے پرمستقل یہودی بستی بسانے کا پیش خیمہ ہے۔
سالم گاؤں کی دیہی کونسل کے سربراہ عبد الکریم حسین نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس پہاڑی علاقے پر جمعہ کی علی الصبح مزید دو خیمے نصب کیے گئے جس کے بعد یہا ں پر موجود موبائل گھروں کی تعداد دس ہو گئی ہے۔ ان عارضی رہائش گاہوں کے قیام کے لیے یہودی آبادکاروں نے متعدد زیتون کے درخت اکھاڑ پھینکے ہیں۔
عبد الکریم حسین کے مطابق یہ علاقہ چار سو ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے جو فلسطینی شہریوں کی زیر ملکیت ہے۔ اس اراضی کے مالکان پاس ان زمینوں کی ملکیت کے کاغذات بھی موجود ہیں۔ دیہی کونسل کے سربراہ نے بتایا کہ ان گھروں کو آباد کرنے کا مقصد واضح ہے اور وہ قریبی یہودی بستی ”الون موریہ” کو توسیع دینا ہے۔ صہیونی حکومت اور یہودی آباد کار اس یہودی بستی کے قریب موجود فلسطینی دیہاتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
