اسرائیلی جیلوں میں بغیر کسی وجہ سے گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کی حالت انتہائی نازک ہو گئی ہے، تاریخ کی طویل ترین بھوک ہڑتال کرنے والے ان قیدیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی میں فلسطین بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔ انہیں اسیران میں نو ماہ سے گرفتار ایمن شراونہ بھی ہیں، جن کی والدہ نے بھی ہسپتال میں زیر علاج اپنے اسیر بیٹے کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
کئی ماہ سے کچھ نہ کھانے کے باعث موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ایمن شراونہ کی والدہ کی بھوک ہڑتال کو بھی چھ روز گزر چکے ہیں، بھوک سے نڈھال ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ نو ماہ سے انکا بیٹا اسرائیل کی ظالمانہ حراست میں ہے لیکن ساری دنیا خاموش ہے ، بغیر کسی الزام کے قید میں رکھے گئے فلسطینیوں کی رہائی کے لیے کوئی حرکت میں نہیں آیا
انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے نے اپنی بھوک ہڑتال کے باوجود اپنے اعلی مقاصد کو نہیں چھوڑا اوراسرائیل اپنے تمام مظالم کے باوجود اس کے ارادوں کو نہیں توڑ سکا۔انہوں نے کہا کہ ایمن شراونہ حق پر ہے اور حق کو کبھی موت نہیں آتی۔
ایمن شراونہ کے بھائی جہاد شراونہ بھی ”مرکز اطلاعات فلسطین” کے نمائندے سے گفتگو کی اور کہا کہ اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے اسیر سامر عیساوی کو اسرائیلی دسٹرکٹ کورٹ کی جانب سے آٹھ ما ہ قید کی سزا سنایا جانا خوش آئند ہے اگرچہ ڈسٹرکٹ کورٹ کا یہ فیصلہ اسرائیلی عسکری عدالت پر لازم نہیں آتا تاہم اب ان کا وکیل اس فیصلے کو بنیاد بنا کر معاملات کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر شکوہ کیا کہ اسیران امور کے مرکزی رہنما سامر عیساوی کی طرح انکے بھائی ایمن شراونہ کے مقدمے کو وہ توجہ نہیں د ے رہے۔ بہت سے لیڈر صرف ٹی وی کی اسکرین پر نمودار ہوکر اس مسئلے کو تو اٹھاتے ہیں مگر اس ضمن میں عملی کام نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ کے علاوہ کوئی بڑا رہنما ان کے اظہار یک جہتی کے لیے ان کے پاس نہیں آیا۔ ایمن شراونہ کے بھائی نے بتایا کہ حماس کے رہنما ان کے پاس متعدد بار ملاقات کے لیے آئے اور ان کے بھائی ، گرفتار فلسطینی اراکین پارلیمان اور دیگر قیدیوں کی رہائی کے لیے کوششوں کی یقین دہانی کروائی۔
ایمن شراونہ کے بھائی نے زور دیا کہ بھوک ہڑتالی اسیران کے حق میں منعقد کیے گئے بھوک ہڑتالی کیمپوں کے شرکاء کی تعدا د اس قدر بڑھانا ہوگی کہ اسرائیل مجبور ہو کر ان اسیران کو رہا کر دے۔ یادرہے کہ کہ ایمن شراونہ نے یکم جولائی 2012 کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی جسے 140 دن تک جاری رکھا، انہوں نے سولہ جنوری 2013 سے دوبارہ ہڑتال شروع کردی ہے۔ بھوک ہڑتال کے اس طویل عرصے کے دوران وہ صرف پانی پی کر گزارا کر رہے ہیں۔
ایمن شراونہ کو سال 2011 کے اواخر میں حماس اور اسرائیل کے مابین طے پانے والے تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا، اس معاہدے کے تحت اسرائیل رہا کیے جانے والے اسیران کو دوبارہ گرفتار نہ کرنے کا پابند تھا، تاہم صہیونی حکام نے مصری ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائی پانے والے متعدد فلسطینیوں کو دوبارہ حراست میں لے لیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا اصرار ہے کہ دوبارہ گرفتار کیے گئے اڑتیس سالہ ایمن شراونہ کو اپنی پچھلی سزا ، جو دس سال قید ہے، پوری کرنا ہو گی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
