اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اسیران کی سزا مکمل ہونے سے قبل رہائی سے متعلق عسکری قانون میں ترمیم کرنے کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عزت رشق نے کہا کہ انہیں ترامیم کی بدولت اسرائیلی فوج اور اس کے خفیہ اداروں نے سال 2011 کے اواخر میں ہونے والے حماس، اسرائیل اور مصر کے مابین تبادلہ اسیران معاہد ے کے تحت رہائی پانے والے چودہ فلسطینی اسیران کو دوبارہ گرفتار کرلیا ہے۔ ان سب کوگزشتہ سال اکتوبر میں حراست میں لیا گیا تھا۔
عزت رشق نے فلسطینیوں کی گرفتاریوں کو اس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ مصر کی ثالثی میں ہونے والا یہ معاہدہ عالمی نوعیت کا ہے اور اس کی خلاف ورزی سے اسرائیل کی جانب سے عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدیات کی خلاف ورزی کا جرم مزید سنگین ہو گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تبادلہ اسیران معاہد ے کی خلاف ورزی کرنے پر اسرائیل سے مواخذہ کرے۔
اس موقع پر فلسطینی رہنما نے مصر پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو تبادلہ اسیران معاہدے کے ساتھ کھیل کھیلنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ قبل ازیں اسرائیلی روزنامے ”ھارٹز” نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے عسکری قانون میں کی گئی تھوڑی سی تبدیلی کے بعد صہیونی فوج نے معاہدے کے تحت رہا ہونے والے چودہ فلسطینی اسیران کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے، اور ان کی بقیہ قید کی سزاؤں کو مکمل کروانے کے لیے انہیں جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
