اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے فلسطین کے معروف کارٹونسٹ محمدسباعنہ کو فلسطین اور اردن کی سرحد پر واقع ”الکرامہ” کراسنگ پر گرفتار کرلیا۔ ان کے بھائی ثامر سباعنہ نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے اردن سے واپس آتے ہوئے محمد سباعنہ کو روکا اور کچھ دیر روکے رکھنے کے بعد حراست میں لیے لیا ۔
انہوں نے بتایا کہ سباعنہ امریکی عرب لیگ کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیے خدمات سرانجام دیتے ہیں اور اسی سلسلے میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے اردن گئے تھے۔
فلسطینی اسیران امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی کارٹونسٹ محمد سباعنہ کی گرفتاری کے بعد اسرائیلی حکام نے ان کے گھر والوں کو اطلاع دی، ذرائع کے مطابق انہیں اس سے قبل کبھی گرفتار نہیں کیا گیا تھا، ان کے اہل خانہ ان کی گرفتاری کی اطلاع ملنے پر شدید حیران تھے۔ محمد سباعنہ کو کہاں رکھا گیا ، اس سے بھی ان کے اہل خانہ بے خبر ہیں۔
یاد رہے کہ بتیس سال کے محمد سباعنہ کا تعلق مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کے نواحی قباطیہ ٹاؤن سے ہے۔ وہ روزنامہ ”نئی زندگی’ ‘ کے کارٹونسٹ کے علاوہ امریکی عرب لیگ کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں بھی کام کرتے ہیں، وہ کارٹونوں کے حوالے سے ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس اور تقریبات میں شرکت کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ وہ بہت سے ملکی اور بین الاقوامی ایوارڈز جیت چکے ہیں۔
دوسری جانب صحافیوں کی یونین نے اسرائیلی حکام کی جانب سے محمد سباعنہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یونین کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے لیے جاری ایک بیان میں کہا گیا صحافیوں پر کیے جانے والے حالیہ حملے بھی آزادی اظہار رائے کے خلاف اسرائیلی مربوط منصوبے کا حصہ ہیں۔ یونین نے دنیا بھر کی صحافتی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین کے اس عظیم کارٹونسٹ کی فوری رہائی کے لیے آگے آئیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
