سات مہینوں سے اسرائیلی عقوبت خانوں میں بغیر کسی وجہ کے اپنی گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال کر کے احتجاج کرنے والے فلسطینی قیدی سامر عیساوی کی حالت انتہائی نازک ہو گئی ہے۔ دو سو دنوں سے کچھ نہ کھانے کے باعث اب ان پر اعصابی فالج کا حملہ ہوا ہے اور ان کے اعضاء شل ہو گئے ہیں۔
اسیران امور کے آفس کے عہدیدار نصر ابو فول نے ہفتے کے روز ذرائع ابلاغ کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ فلسطینی اسیر سامر عیساوی کو اس نازک حالت تک پہنچانے والا اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔
بغیر کسی فرد جرم کے اپنی انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے ان پر بھوک ہڑتال ختم کرنے کا دباؤ دہشت گردی میں شمار ہوتا ہے جس کا ارتکاب اسرائیل مسلسل کر رہا ہے۔
ابو فول نے عالمی برادری سے اپنی ذمہ اداکرنے کی اپیل کی، انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس ضمن صرف دکھ کا اظہار کرنا کافی نہیں، اقوام متحدہ کو چاہیے کہ فلسطینی اسیران کی رہائی اور دوران حراست برتے جانے والے غیر انسانی سلوک سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو مجبور کر کے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسیر سامر عیساوی کے حوالے سے دنیا بھر میں سرگرم تمام عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو واضح اور ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں کی گئی کوششیں ناکافی ہیں۔
خیال رہے کہ سامر عیساوی مقبوضہ بیت المقدس کے عیسویہ ٹاؤن سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی یہ بھوک ہڑتال تاریخ کی سب سے طویل بھوک ہڑتال بن چکی ہے۔
انہیں سال 2011 کے اواخر میں حماس اور اسرائیلی حکومت کے مابین ہونے والے تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں ایک اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے 1027 فلسطینی قیدیوں کو صہیونی قید سے رہائی ملی تھی۔ تاہم اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سامر عیساوی کو دوبارہ گرفتار کر لیا جس پر سامر عیساوی نے بغیر کسی فرد جرم کے اپنی اس حراست کے خلاف احتجاجی بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی جس کو اب سات ماہ گزر چکے ہیں۔
خیال رہے کہ اس وقت بھی صہیونی جیلوں میں 4700 فلسطینی قیدی موجود ہیں، ان میں سے بیاسی فیصد کا تعلق مغربی کنارے سے ہے، 9.6 فیصد غزہ سے جبکہ 0.48 فیصد القدس اور سن 1948ء کے مقبوضہ فلسطین سے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے زیر حراست ان قیدیوں میں 12 فلسطینی خواتین بھی شامل ہیں جن میں مقبوضہ فلسطین کی لینا جربونی بھی شامل ہیں جنہیں حراست میں 11 ماہ بیت چکے ہیں۔ قیدیوں میں 198 اٹھارہ سال سے کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ ان بچوں میں سے 25 بچوں کی عمر سولہ سال سے بھی کم ہے۔ گرفتار کیے گئے فلسطینیوں میں 186 قیدیوں کو بغیر کی فرد جرم کے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
