اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے پولٹ بیورو کے سربراہ خالد مشعل کا کہنا ہے حماس فلسطینی جماعتوں کے درمیان اختلافات کا خاتمے اور قومی اتحاد پر کام کر رہی ہیں۔ وہ کسی کے اقتدار تک پہنچنے کی راہ میں مزاحمت کریگی اور نہ ہی برسر اقتدار آنے والوں کی جانچ پڑتال، بالکل اسی طرح وہ خود سے کسی دوسرے کی تفتیش بھی برداشت نہیں کریگی۔
”مرکز اطلاعات فلسطین” کو دیے گئے اپنے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) یا فلسطینی اتھارٹی کی حکومت کوئی مال غنیمت نہیں بلکہ ہمارا حق ہے۔
منگل کے روز مرکز کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حماس نے زور دیا ہے کہ مصالحت کا مقصد ایک ہونا چاہیے تاہم اس کے حصول کے راستے مختلف ہو سکتے ہیں۔ حماس مصالحت کی کامیابی اور فلسطینی قوم کے اتحاد کے لیے مصالحت پر عمل درآمد کی متمنی ہے۔ قومی اتفاق رائے کے بعد ہی ایسی فلسطینی حکمت عملی کا تعین کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعے سے کسی سے بھیک مانگے بغیر قومی حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ابوالولید نیزور دیا کہ معاہدے کے مطابق مصالحت کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اس حوالے سے مثبت فضا پیدا ہو گئی ہے۔ جس کے بعد انتخابات کے انعقاد اور حکومت کی تشکیل کے امور طے پانا چاہیں۔ ان کا کہنا تھا حماس کا موقف ہے کہ بیلٹ باکس کے نتائج کو ہر صورت تسلیم کیا جائے چاہے وہ فلسطینی اتھارٹی کے فریم ورک میں ہوں یا پی ایل او کے زیر تحت۔
حماس کے رہنما نے فلسطینی تنظیموں کی مفاہمت کے حوالے سے بعض ممالک کے موقف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک جانب یہ قوتیں فلسطینی تقسیم کو فلسطینیوں کی عدم شرکت کے باعث امن مذاکرات کی ناکامی خیال کرتے ہیں اور دوسری جانب فلسطینی اتحاد میں حماس کی شرکت کو انہیں امن مذاکرات میں تعطل کی وجہ گردانتے ہیں۔ اور اس کے بعد حماس پر گروپ چار کی شرائط عائد کرنے کی باتیں شروع کر دی جاتی ہیں۔
امریکا کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ اگر نئی امریکی انتظامیہ علاقے میں خون ریزی اور فلسطینی قوم پر جاری ظلم کو ختم کروانے میں سنجیدہ ہے تو ہم اسے یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی امن عدل و انصاف اور مظلوم قوم کو ان کے غصب کردہ حقوق واپس دلوانے کے بعد ہی قائم ہو گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
