مغربی کنارے کے شہر نابلس سے فلسطینی مجلس قانون ساز کی رکن منی منصور کا کہنا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے سیاسی گرفتاریوں اور تھانوں میں طلبی قومی مصالحت کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے قدس پریس سے بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی منی منصور نے کہا کہ قومی مصالحت کے لئے کی جانی والی کوششوں کے علی الرغم زمینی حقائق وہی ہیں جو سن 2007ء میں تھے۔ سیاسی گرفتاریاں اور حماس کے کارکنوں کی فلسطینی انتظامیہ کے تھانوں میں طلبی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
انہوں نے کہا فلسطینی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے رام اللہ میں خواتین کو گرفتار کرنے کی کوشش انتہائی خطرناک نتائج لا سکتی ہے۔ یہ معاملات تمام رسوم و قیود اور قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ایسی گرفتاریاں سے قومی مصالحتی فضا مکدر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی سوسائٹی تو سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں مردوں کی گرفتاری پر سراپا احتجاج ہے، ایسے میں خواتین کی پکڑ دھکڑ کی اجازت کیونکر دی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نیک نیتی کو زمینی حقائق کی صورت میں ہوتا نظر آنا چاہئے۔
قاہرہ میں قومی مصالحت کے حوالے سے جاری ملاقاتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو رہنما داخلی تقسیم ختم کرنا چاہتے ہیں وہ ایک طرف ہیں جبکہ ان کے نمائندے مخلتف زمینی حقائق رقم کر کے ان کی مصالحتی کوششوں پر پانی پھیرنے میں مصروف ہیں۔ "بعض حلقے صرف داخلی مصالحت کے ذریعے عام انتخابات [پارلیمانی اور صدارتی] تک رسائی چاہتے ہیں تاکہ وہ حماس کو قومی عمل سے نکال باہر کر سکیں۔”
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
