فلسطینی اسیران امور کے مرکز ”احرار” کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسزنے رواں ماہ کے دوران تین فلسطینی خواتین کو گرفتار کر لیا ہے ، اس طرح صہیونی عقوبت خانوں کے مظالم سہنے والی بے گناہ فلسطینی اسیرات کی تعداد چودہ ہو گئی ہے۔
مرکز احرار نے بتایا کہ مغربی کنارے میں صنف نازک کے خلاف اسرائیلی جارحتیں جاری ہیں اور رواں ماہ تین خواتین کو پابند سلاسل کر دیا گیا۔ ھیام نمر الرجبی اور آیات یوسف کو الخلیل سے اٹھایا گیا، اسیرہ آلاء محمد قاسم ابو زیتون کو عصیرہ ٹاؤن میں حوارہ چیک پوسٹ پر گرفتار کیا گیا۔
مرکز احرار کے تحقیق کار فواد الخفش نے بتایا کہ گرفتار کی جانے والی ان خواتین کو انتہائی مشکل حالات سے گزارا جاتا ہے۔ خواتین ہونے کے ناطے بھی ان سے ذرہ بھر نرمی نہیں برتی جاتی۔ مرکز احرار نے بتایا کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ نے گرفتار اسیرات کو علاج کی سہولیات سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ انہیں کھانے پینے کی مضر صحت اشیادی جاتی ہیں جس سے ان کی شکم سیری بھی نہیں ہو پاتی۔
فواد الخفش نے صہیونی عقوبت خانوں میں موجود فلسطینی اسیرات کے نام بتائے جن میں آلاء جعبہ، اسماء بطران، ھدیل ابو ترکی، سلوی حسان، آیات یوسف محفوظ اور ھیام نمر الرجبی کا تعلق الخلیل سے ہے۔ ایمان بنی عوہ کا تعلق طمون سے ہے، مقبوضہ فلسطین سے لینا جربونی صہیونی جیلوں میں ہیں۔ منی قعدان اور نوال سعدی کا تعلق جنین جبکہ منال زواھرہ اور انعام حسنات کا بیت لحم سے ہے۔ القدس کی انتصار سید مقبوضہ بیت المقدس سے اور آلاء محمد ابو زیتون عصیرہ ٹاؤن سے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
