اسرائیل میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے مغربی کنارے میں صہیونی فوج کی فلسطینی شہریوں کے خلاف کی جانے والے متعدد غیر قانونی سرگرمیوں کی دستاویزی ویڈیو رپورٹ تیار کی ہے۔ ویڈیو رپورٹ مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے نواحی قصبے عوریف میں تیار کی گئی۔
اس ویڈیو رپورٹ کو اسرائیلی اخبار ‘یدیعوت احرونوت’ نے جمعہ کے روز اپنے آن لائن ایڈیشن میں شامل کیا ہے۔ رپورٹ میں دکھائے گئے مناظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی فوجی کیونکر عوریف گاؤں کے شہریوں کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں اسرائیلی فوجیوں شہریوں کو پریشان کرنے کے لئے روشنی کے گولے، تیز سائرن اور رات گئے میگا فون کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو تفتیش کے لئے تھانے حاضری جیسے اقدامات کے ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔
یہ رپورٹ ‘وہاں قانون’ نامی اسرائیلی این جی او نے تیار کی ہے۔ انجمن کے عہدیدار کے مطابق اس رپورٹ کے ذریعے وہ صہیونی فوج کے پراسیکیوٹر جنرل کی توجہ ان کے فوجیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں تاکہ ان خلاف ورزیوں کی تفتیش کی جائے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع نے ویڈیو رپورٹ کے مندرجات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ چند دنوں کے دوران صہیونی فوج کو عوریف میں اپنی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت تھی تاکہ وہاں اہل علاقہ اور قریب واقع ‘یتسھار’ یہودی بستی کے باسیوں کے درمیان ہونے والی کشیدگی کم کرائی جا سکے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فوج نے بعض حالات میں اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
