اسرائیل نے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کے جائزہ اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ یو این کی ذیلی تنظیم کے کسی رکن ملک نے عالمی ادارے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جائزہ اجلاس میں شرکت سے انکار کیا ہے۔
عالمی ادارے کی انسانی حقوق کونسل نے گزشتہ برس مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر کے معاملے کی تفتیش کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے اس ادارے سے مزید تعاون نہیں کرے گا۔ یاد رہے اسرائیل ماضی میں بھی انسانی حقوق کونسل کی ‘بے جا نکتہ چینی’ کی شکایات کر چکا ہے۔گزشتہ روز جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اسرائیلی نمائندے کی غیر موجودگی پر مناسب ردعمل پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی اخبار فائننشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان یگال پالمر نے کہا کہ تل ابیب کے خلاف کونسل میں دیئے جانے والے متعدد بیانات کے بعد ہم نے انسانی حقوق کونسل سے سرکاری رابطے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘میں اس بات کی تصدیق کر رہا ہوں کہ ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔’
یو این ترجمان رولینڈو گومیز نے امریکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کو بتایا کہ کونسل کے اجلاسوں سے اسرائیل کی عدیم النظیر غیر حاضری نے ادارے کو نئی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ سالانہ یونیورسل جائزہ اجلاس میں رکن ملک کی شرکت لازمی ہے۔
یاد رہے کہ 2010ء میں ہیٹی یو این انسانی حقوق کونسل کے سامنے پیش نہیں ہوا تھا مگر انہوں نے اس کی وجہ سیاسی اختلافات نہیں بلکہ تباہ کن زلزلے کو قرار دیا۔ اس کے علاوہ تمام ممالک حتیٰ کہ شام اور شمالی کوریا بھی اجلاس میں شامل ہوتے ہیں۔ اسرائیل کے دیرینہ دوست امریکا نے بھی اسے انسانی حقوق اجلاس میں شرکت کا مشورہ دیا تھا۔
