لبنان کے وزیر اعظم ہاؤس میں پیر کے روز ہونے والی اس ملاقات کے دوران اسماعیل رضوان اور نجیب میقات نے لبنان میں فلسطینی مہاجر کیمپوں کی انتہائی ابتر صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اسماعیل رضوان کا کہنا ہے کہ شدید سردی میں ان کیمپوں میں بسنے والے پناہ گزیں سردی سے بچنے کے گرم کپڑوں سے بھی محروم ہیں۔ انہوں نے لبنان میں فلسطینی مہاجر کیمپوں کی حالت زار کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے ان بے سہارا فلسطینیوں کے ساتھ تعاون میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسماعیل رضوان کا کہنا تھا کہ ہمارا زور اسی بات پر ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی ان کا حق ہے اور لبنان اور دیگر ممالک میں موجود فلسطینی وطن واپسی سے پہلے تک ان ممالک میں عارضی رہائش رکھے ہوئے ہیں۔
فلسطینی رہنما نے یو این ریلیف اینڈ ورک ایجنسی(UNRWA) سے مطالبہ کیا کہ لبنان میں موجود فلسطینی مہاجرین کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ، انہوں نے پناہ گزینوں کو مدد فراہم کرنے والے ممالک ، جو اس ماہ کویت میں اکٹھے بھی ہو رہے ہیں، کو ترغیب دی کہ وہ مہاجر کیمپوں کی امداد میں اضافہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی مصالحت پر بات چیت جاری ہے اور غزہ کی فلسطینی حکومت اور حماس مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے شام میں جاری جھڑپوں کی وجہ سے ہجرت مکانی پر مجبور ہزاروں فلسطینیوں کو لبنان میں جگہ دینے پر لبنان حکومت اور قوم کا شکریہ ادا کیا۔ اور وزیر اعظم نجیب میقات کو باقاعدہ غزہ کے دورے کی دعوت بھی دی۔
اسماعیل رضوان کچھ روز قبل امدادی سامان لیکر لبنان پہنچے تھے، ان کی آمد کا مقصد شام سے ہجرت کر کے یہاں آنے والے فلسطینی مہاجرین کو نقد رقوم اور امدادی اشیاء تقسیم کرنا تھا۔
