الاقصی فاؤنڈیشن کے تازہ انکشاف کے مطابق اسرائیلی تعمیراتی کمپنیوں کے اہلکاروں نے مقبوضہ بیت المقدس کے تاریخی مامن اللہ قبرستان کی بے حرمتی جاری رکھتے ہوئے کھدائیوں کے دوران نکلنے والے تابوتوں اور میتیوں کی باقیات کو غائب کرنا شروع کر دیا ہے۔
فلسطینیوں کے مشتعل ہونے کے خوف کے باعث اسرائیلی اہلکار اب تک درجنوں تابوتوں کو نامعلوم مقام منتقل کر چکے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مختلف ترقیاتی اور تعمیر نو کے منصوبوں کے ضمن میں اسرائیل اس قبرستان کی اراضی پر قبضہ کرتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی اہلکار اب تک کھدائیوں کے دوران قبروں سے نکلنے والے میتوں کے درجنوں صندوقوں کو باقیات سمیت غائب کر چکا ہے۔ عینی شاہدین نے اس ضمن میں کچھ روز قبل پیش آنیوالے ایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ قبروں کی کھدائیوں کے دوران اسرائیلی یہودی نے ایک میت کی کھوپڑی کو اس طرح ٹھوکر رسید کی جیسے وہ کوئی فٹ بال ہو۔
اقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ نے بتایا کہ بہت سی صہیونی تعمیراتی کمپنیاں ایک امریکی کمپنی کے تعاون سے قبرستان میں کھدائیاں کر رہی ہیں، قبرستان کے بڑے حصے پر یہودی آثار قدیمہ کے میوزیم ”صبروبرداشت میوزیم” کی تعمیر کے منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔ اس دوران قبرستان کی زمین کو بیس میٹر نیچے تک کھودا جا رہا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر کھدائی کے اس سلسلے کے دوران قبروں سے نکلنے والے میتوں کی بے حرمتی بھی کی جارہی ہے اور بہت سے میت صندوقوں کو غائب بھی کر دیا جاتا ہے۔
اقصی فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے میڈیا سیل کے عملے نے پچیس جنوری کو قبرستان کا دورہ کیا اور یہاں پر جاری کھدائیوں کا جائزہ لیا ہے۔ یہاں پر امریکی تنظیم ”فیزنطال” کے ساتھ ایک اسرائیلی تنظیم نے بھی کھدائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی زد میں قبرستان کی پچیس ایکڑ اراضی ہے۔
اقصی فاؤنڈیشن نے چند روز قبل مسلمانوں کے اس تاریخی قبرستان میں جاری اسرائیلی جارحانہ کارروائیوں سے آگاہ کیا تھا، فاؤنڈیشن کے مطابق اس قبرستان کی اراضی پر قبضہ کرنے کے لیے مختلف اطراف سے اس کی اراضی پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ کھدائیوں کے سبب قبرستان میں موجود قبریں اکھاڑ پھینکی گئی ہیں اور فوت شدگان کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
