بیتونیا کے علاقے سے رام اللہ کے لیے روانہ ہونے والی ام ایوب سناء سمیح خلف ، اس کی دو بیٹیوں ،ایک چار سالہ بیٹے، اس کے بھائی، اور دو بھتیجیوں کو ہرگز معلوم نہیں تھا کہ وہ شادی کی تقریب میں شرکت کیلیے نہیں بلکہ اپنی جان اللہ کے سپرد کرنے کے سفر پر رواں دواں ہیں۔
انکی کار کو ایک بس نے روند ڈالا، اس ٹریفک حادثے میں سناء سمیح اپنی دو بیٹیوں اوردوبھتیجیوں کے ہمراہ داعی اجل کو لبیک کہ گئیں۔ اس طرح بیتونیا نے مساجد کو خیرات کرنے والی ایک خاتون اور چار حافظات کو الوداع کر دیا۔ اور شادی کا گھر میں ماتم کدہ بن گیا۔
پینتالیس سالہ ام ایوب اس کے بیٹے چارسالہ سعادہ مفید، بیٹی بائیس سالہ نورا، بھتیجیاں انیس سالہ براء حسین ھریش اوربائیس سالہ سماح سامح شلبی اس حادثے میں جاں بحق ہوئے، جبکہ ستینتالیس سالہ ھیر سمیح شلبی کو شدید زخم آئے ہیں اورھداسا ہسپتال میں زیر علاج شلبی کی حالت اب بھی خطرے میں ہے ۔
خیال رہے کہ سماح شلبی کی القدس یونیورسٹی کی طالبہ تھی ، اور اس کی اپنی شادی اگلے ہفتے تھی جس کی تیاریاں بھی جاری تھیں۔ جاں بحق ہونے والی لڑکیوں کے خاندان ایک ہی گھر میں مقیم تھے۔ ام ایوب کانو سالہ بیٹا ایوب اب اپنے اس والد کے ساتھ گھر میں اکیلا بچا ہے جس پر پہلے ہی غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
