مقبوضہ بیت المقدس کے اوقاف اسلامی کے سربراہ شیخ عبد العظیم سلھب نے مسجد اقصی کے اطراف بالخصوص اس کی دیواروں کے نیچے جاری اسرائیلی کھدائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کھڑی کی جانے والی تمام رکاوٹوں کے باوجود اوقاف اسلامی مسجد اقصی کے تحفظ اور اس کیی مرمت کے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔
شیخ سلھب نے ”مرکز اطلاعات فلسطین” کے ساتھ اپنی خصوصی گفتگو میں کہا کہ اسرائیلی حکومت یونیسکو کے عہدیداروں کے مسجد اقصی کے دوروں میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ اس سے قبل سن 2000ء سے قبل بھی صہیونی حکام نے یونیسکو کے جنرل مینیجر کو مسجد اقصی کے دورے سے روک دیا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ القدس شہر سال 1981 سے عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل ہے اور اس آثار قدیمہ کی حفاظت کی ذمہ داری سب پر لازم ہے۔
دوسری جانب القدس انٹرنیشنل سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر حسن خاطر نے ایک بار پھر اپنے مطالبے کو دہرایا ہے کہ مسجد اقصی اور اس کے اطراف موجود سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے اسلامی تعاون کونسل کی زیر نگرانی عالمی کمیٹی تشکیل دی جائے جو مسجد اقصی کی حفاظت اور اس کی مرمت و بحال کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کھدائیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی اس تیسری مقدس ترین مسجد معرض خطر میں ہے اور مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ اپنے قبلہ اول کے تحفظ کی یقین دہانی حاصل کریں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
