اسرائیل نے اپنے زیر نگیں علاقے نقب میں آباد ہزاروں عرب بدووں کو ہجرت پرمجبور کرنے کا منصوبہ تشکیل دے دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے بیگن دستاویز کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں غیر تسلیم شدہ دیہاتوں سے پینتالیس ہزار عرب فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔
صہیونی حکام نے گزشتہ برس بیگن دستاویز پر عمل درآمد نہ کروا سکنے کے بعد اس بار نقب شہر سے ہزاروں فلسطینیوں کو نکالنے کے اس منصوبے کو ”پریفر منصوبے” کا نام دیا ہے۔
اسرائیلی ریڈیو نے سن 1948ء سے صہیونی زیر قبضہ فلسطین کے علاقے نقب میں غیر تسلیم شدہ دیہاتوں کی کونسل کی سربراہ عطیہ اعسم کے حوالے سے بتایا کہ بیگن دستاویز اور پریفر منصوبہ ایک ہی چیز ہیں صرف اس میں تھوڑی سی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بیگن دستاویز کی طرح پریفر منصوبے کا مقصد بھی فلسطینیوں سے ان کی اراضی کو ہتھیانا اور ان سے ان کیا املاک کی ملکیت چھیننا ہے۔
اعسم نے مزید کہا کہ ان دیہاتوں کے عرب مکین اس منصوبے کیخلاف بھرپور مزاحمت کریں گے جیسا کہ گزشتہ سال بھی ایسی کارروائیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا گیا تھا۔
اسرائیلی ریڈیو نے صہیونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے حوالے سے بتایا کہ وہ آج اتوار کے روز اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں حکومتی وزراء سے اسی حکومت کے ایک وزیر ”بینی بیگن” کی تیار کردہ ان دستاویز کے حوالے سے تجاویز طلب کریں گے۔ ان دستاویز میں نقب کے علاقے سے ہزاروں عرب بدووں کو نکالنے اور غیر تسلیم شدہ دیہات کے مکینوں کو رہائش کو منظم کرنے کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
