اقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثارقدیمہ نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصی کے مراکشی دروازے کے راستے پر اسرائیل نے کھدائیاں تیز کردی ہیں، کھدائیاں دیوار براق (دیوار گریہ) سے ملحق صحن کو توسیع دینے کے حوالے سے کی جارہی ہیں۔ فاؤنڈیشن نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے کھدائی کرنے والے مزدوروں اور ان کے کام کے اوقات میں اضافہ کردیا ہے ،۔
اقصی فاؤنڈیشن کو موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل یہودی آباد کاروں خاص طور پر یہودی خواتین کے لیے مراکشی دروازے کے اس راستے پر ایک کنیسہ تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ یہودی آباد کار دیوار براق کے اس صحن میں آہ و زاری کی عبادت تصور کرتے ہیں اور دن بدن اس صحن میں عبادت کے لیے آنے والے یہودیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی حکام نے خواتین کے لیے نئی عبادت گاہ کی تعمیر کے افتتاح کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔اقصی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ حالیہ کھدائیوں کو قریب سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ کھدائیاں براق صحن کے بالکل قریب ہیں ، اسرائیل کی جانب سے تیزی سے جاری ان کھدائیوں کی تصاویر بھی کھینچ لی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا کہ اسرائیل مراکشی دروازے کی جانب جانے والے اس راستے پر قبضہ کر رہا ہے۔اقصی فاؤنڈیشن کا کہنا تھا کہ مراکشی دروازہ اور اس کی جانب آنے والا راستہ مسجد اقصی کا جزو لا ینفک ہے جس سے کسی صورت دست بردار نہیں ہوا جا سکتا۔
