اسرائیلی سکیورٹی فورسزنے منگل کی شام مشرقی القدس کے قریب لگائی گئی خیمہ بستی ”باب الشمس” آنے والے چالیس فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ مشرقی القدس اور یہودی بستی معالی ادمیم کے درمیان ای ون میں مجوزہ یہودی بستی کے خلاف لگائی گئی احتجاجی خیمہ بستی کی جانب جانے والے نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونے والے نوجوانوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی سپریم کورٹ کی جانب سے بستی کو اکھاڑنے کے فیصلے پر عمل کے خلاف بستی پہنچے اسرائیلی فوج نے ان پر حملہ کر دیا، اور متعدد افراد کو زبردستی اس علاقے سے نکالنے کے دوران چالیس افراد کو حراست میں بھی لے لیا۔
ذرائع نے بتایا کہ صہیونی اہلکاروں کے تشدد سے سترہ افراد زخمی ہوئے جن میں چھ صحافی بھی شامل تھے۔ صحافیوں میں عصام ریماوی، ناصر شیوخی، محمود علیان اور احمد غرابلہ کا تعلق فلسطین سے تھا جبکہ دو صحافی غیر ملکی تھے۔ اسی گرفتار کیے جانے والے چالیس افراد میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں تاہم گرفتار افراد میں سے بہت سو کو کچھ دیر حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
وادی حلوہ مطالعاتی مرکز نے بتایا اسرائیلی فوج نے رات گئے سے ہی باب الشمس جانے والا مرکزی راستہ بند کر دیا تھا، اسی طرح یہاں میڈیکل کے عملے کو بھی اس علاقے میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ گاؤں کی جانب آنے والی تمام گاڑیوں کو روک دیا گیا اور انہیں چھوڑنے کے لیے اڑھائی سو سے پانچ سو شیکل جرمانہ بھی وصول کیا گیا۔خیال رہے کہ کہ ہفتے کی شام اسرائیلی فوج نے بطور احتجاج لگائے گئی اس خیمہ بستی کو خالی کروا لیا تھا اور یہاں موجو د تمام افراد کو زبردستی یہاں سے نکال کر اس علاقے کو فوجی ممنوعہ علاقہ قرار دیدیا تھ
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
