اسرائیلی حکومت کے بلڈوزر ز نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں ایک فلسطینی کا گھر مسمار کر دیا ، ادھر صہیونی فوجی اہلکاروں نے شہر کی ایک قریبی چیک پوسٹ سے گزرنے والے اہالیان القدس پر سختیاں بڑھا دی ہیں۔ مسافروں کو روک کر گھنٹوں زدوکوب کیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز اسرائیلی پولیس کی بڑی تعداد کی حفاظت میں بلدیہ کے بلڈوزروں نے شہر کے علاقے بیت حنینا پر ہلہ بولا اور الرجبی خاندان کے ایک گھر کو منہدم کرنا شروع کر دیا۔
حکام نے الزام عائد کیا کہ یہ گھر بلدیہ کی اجازت کے بغیر تعمیر کیا گیا تھا اور بلدیہ نے اس سے قبل خاندان کو اپنے گھر کے ساٹھ میٹر مسافت کے ایک حصہ کو منہدم کرنے کی ہدایت بھی کر رکھی تھی، تاہم اہل خانہ کی جانب سے ان احکامات پر عمل نہ کرنے کے بعد اب بلدیہ کے بلڈوزروں نے اس حصے کو زبردستی مسمار کردیا ہے۔
دوسری جانب القدس کے شمالی چیک پوسٹ پر اسرائیلی اہلکاروں نے مسافروں کو تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔ چیک پوسٹ پر درجنوں گاڑیاں روک کر ان کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ اور گزرنے والوں کی شناخت معلوم کرنے کے بعد انہیں دیر تک تفتیشی مراحل سے گزارا جا رہا ہے۔ چیک پوسٹ پر کھڑے جلاد صفت اہلکاروں نے بہت سے شہریوں کو چیک پوسٹ سے گزرنے سے روک دیا ہے۔ بالخصوص کئی نوجوانوں کو گھنٹوں حراست میں رکھا گیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
