• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

با ب الشمس، فلسطینی مزاحمتی تاریخ کا نیا باب

اتوار 13-01-2013
in فلسطین
0
plf flag
0
SHARES
0
VIEWS
 

اسرائیل نے مشرقی القدس اور یہودی بستی معالی ادومیم کے درمیان بارہ مربع کلومیٹر پر پھیلے علاقے ”ای ۔ون” میں 3500 رہائشی یونٹس پر مشتمل یہودی بستی بسانے کے منصوبے کا اعلان کیا تو فلسطینیوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

اس مرتبہ فلسطینیوں نے روایتی احتجاج کے بجائے نیا انداز اختیار کیا اور یہودی بستی کے لیے مختص اس علاقے میں خیمے لگا لیے۔ خیموں کے اس کمپاونڈ کو باب الشمس کا نام دیا گیا تھا جو لبنان کے مصنف الیاس خوری کے ایک ناول سے لیا گیا، جس میں ایک رومانوی داستان کے ذریعے فلسطینیوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔

 
اسرائیلی فوج نے اپنی ایک کارروائی میں خیمے لگا کر یہاں احتجاج کرنے والے تقریبا دو سو فلسطینی مظاہرین کو زبردستی بے دخل کر دیا ہے۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ نے جمعہ کو فیصلہ سنایا تھا کہ خیمے چھ دِن تک قائم رکھے جا سکتے ہیں، جو ای ون کہلانے والے جغرافیائی لحاظ سے نازک علاقے میں قائم کیے گئے ہیں۔
 
اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خیموں میں موجود لوگوں کو ہٹانے کے احکامات جاری کر دیے تھے۔ پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ عدالت نے مظاہرین کو ہٹانے کی اجازت دی تھی، تاہم اس جگہ سے خیمے ابھی تک نہیں ہٹائے گئے۔
اسرائیلی حکومت سے اسی طرح کے مظالم کی ہی امید کی جا سکتی تھی کیونکہ اگر یہاں پر احتجاج جاری رہتا تو اس سے متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی امیدیں وابستہ ہو سکتی تھیں۔ اسرائیل اس جگہ پر ہر صورت رہائشی یونٹس تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کے بعد اس کی بستی معالیہ ادومیم بھی القدس سے مل جائے گی۔ اور اس طر ح مشرقی القدس کے اطراف یہودی بستیوں کی کمان مکمل ہونے اورالقدس کا مغربی کنارے سے رابطہ کٹنے کے بعد اسرائیل کے لیے مشرقی اورمغربی حصے کو ملا کر ”گریٹر القدس” کو اسرائیلی دارالخلافہ قرار دلوانے کا منصوبے میں بھی مزید آسانیاں پیدا ہوجائیں گی۔
 
بین الاقوامی رضا کاروں اور فلسطینیوں کی جانب سے اپنائے گئے اس جدید طرز احتجاج کے بعد مغربی کنارے کے دوسرے علاقوں میں بھی اسی طریقے کو اپنانے کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ قدیم تاریخی شہر الخلیل سے تعلق رکھنے والے فلسطینی رکن پارلیمان حاتم قفیشہ کا کہنا ہے کہ ”باب الشمس” قومی مزاحمتی طریقوں کا ایک نیا اسلوب ہے ۔ اب ضروری ہوگیا ہے کہ اسی طرز کو دیگر مقامات پر بھی اپنایا جائے البتہ احتجاجی کیمپ یہ سوچ کر لگائے جائیں کہ اسرائیلی فورسز ان کو اکھاڑ پھینکے گیں اور مظاہرین پر بدترین تشدد اور دیگر مظالم بھی ڈھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ہم یہودی بستیوں کی توسیع کے ہر منصوبے کے خلاف ”باب الشمس” قائم کر سکتے ہیں اور اس طرز احتجاج کے عوام میں مقبول ہونے کے بعد فلسطینی رہنما قوم کو متحد کرکے دنیا کے سامنے اپنا مسئلہ بھرپور انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کرنے سے عالمی برادری اور مختلف تنظیموں کی جانب سے فلسطینیوں کو بڑی حمایت ملنے کی توقع ہے۔
 
فلسطینی رہنما کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے سرطان اور اسرائیلی مظالم کو روکنے کے لیے صرف ”ای ۔ون” میں نہیں دیگر مقامات پر بھی ”باب الشمس” قائم کرنا ناگزیر ہے۔ ”باب الشمس” کا آئیڈیا پیش کرنے والی تنظیم قومی کمیٹیز کا کہنا ہے کہ ان کی یہ کاوش فلسطینیوں کی اراضی پر انہیں کے حق کے حصول کا مقدمہ ثابت ہوگی۔ اس طرح خیمے لگانے سے اسرائیلی منصوبوں کو ناکام کرنے میں بھرپور مدد مل سکتی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ان خیموں میں اظہار یک جہتی کے لیے غیر ملکی رضا کاروں کی موجودگی اور مظاہرین کے پرامن رہنے نے اسرائیل کو شدید پریشانی میں ڈال دیا تھا۔
 
”ابوغنم” کا تکرار
 
القدس کی اراضی ہتھیانے کا یہ طریقہ یادوں سے محو نہیں ہوا، جب ”جبل ابو غنیم” نامی القدس کی ایک چوٹی پر چڑھ کر چند درجن یہودیوں نے یہ اعلان کردیا تھا کہ یہ چوٹی ان کی ہے۔ آج اس جگہ پر ھار حوما کے نام سے پوری بستی قائم ہے۔ سن 1997 میں اراضی ہتھیانے کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو شہید اورزخمی کردیا گیا تھا، اس مرتبہ بھی حالات بالکل اسی طرح کے ہیں، خاص طور پر علاقہ بھی القدس ہے اورصہیونی وزیراعظم بھی وہی بنجمن نیتن یاھو ہے۔
 
فلسطینی رکن پارلیمان حاتم قفیشہ نے مزید کہا کہ جو کچھ اس وقت ابو غنیم میں ہوا تھا وہ اس وقت کے سیاسی حالات میں تھا، اس وقت عرب دنیا سوئی ہوئی تھی اور امریکا اسرائیل کا بھرپور حامی تھا۔ آج بھی ایسے ہی حالات ہیں، عرب دنیا آج بھی مجموعی طور پر فلسطین سے بے گانہ ہے اور اسرائیل کو امریکا کی بھرپور مدد بھی حاصل ہے۔ یورپ کا کردار غیر موثر ہوکر رہ گیا ہے اور اسرائیل ایک ایک کر کے یہودی بستیوں میں اضافہ اورتوسیع کرتا چلا جا رہا ہے۔
 
یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ میں غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ ملنے کے بعد نیتن یاھو نے 7400 نئے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ یہ رہائشی یونٹس مقبوضہ مشرقی القدس اور مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں تعمیر کیے جانے تھے۔ اسی ضمن میں ”ای۔ ون” کے علاقے میں 3500 رہائشی یونٹس کی تعمیر کا پروجیکٹ بھی شامل تھا۔
 
 
 
 
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.