اسرائیلی فوج نے سن 2012ء کے دوران فلسطینی مجلس قانون ساز کے 12 ارکان کو اغوا کیا۔ یرغمالی پارلیمنٹیرینز کی رہائی کے لئے جاری بین الاقوامی مہم نے سال نو پر جاری کردہ اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ
حماس کے ٹکٹ پر فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہونے والے بارہ ارکان کو اسرائیلی فوج نے رہائی کے بعد دوبارہ اغوا کر لیا۔ سن 2012ء میں نو یرغمالی ارکان اسمبلی کو رہائی ملی تھی۔
رپورٹ کے مطابق مختلف ارکان اسمبلی کو سال کے دوران 27 مرتبہ انتظامی حراست میں لیا جاتا رہا ہے جبکہ گزشتہ برس کے دوران 10 مرتبہ ان کے گھروں اور دفاتر پر بغیر اجازت چھاپے مارے گئے۔
بین الاقوامی مہم کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس فلسطینی ارکان اسمبلی کے خلاف اسرائیل کی انتقامی کارروائیوں میں بہت زیادہ تیزی دیکھی گئی۔ رپورٹ میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی کو گرفتاری سے حاصل استثنی کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں بغیر مقدمہ چلائے قید رکھا گیا۔ نیز ان کے اہل خانہ بھی اسرائیلی مظالم سے محفوظ نہیں رہے۔
مہم کے انچارج مشہر المصری نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری کی خاموشی کی وجہ سے اسرائیل کو اپنے مظالم میں ہر روز نیا رنگ لانے کا حوصلہ دیا۔ انہوں دنیا بھر کے قانون ساز اور پارلیمانی اداروں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی قانون سازوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ منتخب ارکان کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں روک دے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
