اندرون اور بیرون فلسطین مقیم رہنماؤں نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقتدرہ کی زمام کار انتہا پسند صہیونی وزیر اعظم بنجمن کے حوالے کرنے کے بچائے اس کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینی عوام پر چھوڑ دیں۔
فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن حسن خریشہ نے محمود عباس کی جانب سے فلسطینی انتظامیہ کا چارج بنجمن نیتن یاہو کے حوالے کرنے سے متعلق حالیہ بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا "اگر محمود عباس عہدہ چھوڑنا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی ہے لیکن منصب سے علاحدگی پر انہیں زمام کار عوام کو واپس لوٹانا ہو گی جنہوں نے انہیں اس مںصب پر فائز کرایا۔”
بہ قول حسن الخریشہ: "فلسطینی نیشنل اتھارٹی بین الاقوامی سیاسی معاہدے کی پیدوار ہے۔ اس ادارے کو تحلیل کرنے کا حق انہیں حاصل نہیں ہے۔”
فلسطینی رہ نما نے کہا محمود عباس بیک وقت دو متضاد موقف پیش کر کے قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر اسرائیلی انتخابات کے بعد صہیونی حکمرانوں نے امن مذاکرات کے بارے میں موجودہ روش برقرار رکھی تو وہ فلسطین انتظامیہ کا چارج بنجمن نیتن یاہو کے حوالے کر دیں گے۔ دوسری جانب وہ صہیونی ہٹ دھرمی کے خلاف کسی انتفاضہ کے امکان کو مسترد کر رہے ہیں۔ حسن الخریشہ کہ بہ قول قابض دشمن کی کہ مکرنیوں اور اس کے غرور کا جواب دراصل مزاحمت کی ہر ممکن شکل اختیار کرنے میں ہے۔
حماس پولٹ بیورو کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر موسی مرزوق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر محمود عباس کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "وہ [ابو مازن] حکومت نیتن یاہو کے حوالے کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ان کے قریبی لوگ کا حکومت پر حق فائق نہیں۔”
ابو مرزوق نے کہا کہ محمود عباس اپنی پالیسی پر ثابت قدم ہیں جس کے تحت ان کا اعلان ہے کہ ‘تیسری انتفاضہ ہر حال میں نامنظور، تمام تر ذلت کے باوجود مسلح مزاحمت نامنظور، یہودی آبادکاری کے ساتھ امن مذاکرات نامنظور، انتخابات سے قبل فلسطینی مصالحت نامنظور ۔۔۔۔ ایسے میں ان کا فلسطینی مملکت کی زمام کار دشمن کے حوالے کرنے کا اعلان نیتن یاہو کی بہت بڑی کامیابی ہے۔”
سیاسی شعبے کے سینئر رکن ڈاکٹر محمود الزہار نے محمود عباس کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی انتظامیہ کی تحلیل کا فیصلہ ابو مازن اکیلے نہیں کر سکتے۔ ملکی معاملات سے متعلق فیصلے علاقے میں سرگرم تمام فلسطینی جماعتوں کے مشورے سے کئے جانے چاہیں۔
ایک بیان میں ڈاکٹر الزہار نے کہا کہ محمود عباس کو یہ بات زیبا نہیں کہ وہ ایک منصوبے کے بعد دوسرے منصوبے تک چھلانگیں لگاتے پھریں۔ انہوں نے کہا کہ محمود عباس ایسی باتیں اس وقت کر رہے ہیں جب صہیونی حکمران ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
