مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی نونہالوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والے اساتذہ تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے خاندان سمیت فاقوں کا شکار ہیں دوسری جانب عوامی نمائندگی کا دم بھرنے والے وزیر اعظم سلام فیاض نے ایک ہفتے کے دوران 54 ملین ڈالر بیرون ملک دوروں پر اڑا دیئے ہیں۔ فیاض حکومت مالی بحران کو تنخواہوں میں تاخیر کا باعث قرار دیتی ہے جبکہ حکمران طبقے کے اللے تللے جاری ہیں۔اس بات کا انکشاف مغربی کنارے میں ڈیموکریٹک فرنٹ برائے آزادی فلسطین کی اساتذہ کمیٹی کے صدر منتصر حمدان نے ‘فلسطین الیوم’ سیٹلائیٹ ٹی وی کو انٹرویو میں کیا۔ منتصر حمدان کا کہنا تھا کہ اگر رام اللہ حکومت نے درست اقتصادی پالیسی اور اخراجات کو کنڑول کیا ہوتا تو اساتذہ اور شعبہ تعلیم سے وابستہ دیگر ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا ممکن تھا۔انہوں نے کہا کہ مالی بحران کا بوجھ صرف استاد پر ڈالنا قابل مذمت ہے جبکہ زندگی کے دوسرے شعبوں پر اقتصادی بحران کے اثرات نظر نہیں آتے۔ انہوں مطالبہ کیا بڑے اخراجات اور بالخصوص حکومتی عمال اور وزیروں کے بیرون ملک دورے کم کئے جائیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی ہڑتال کی بلاجواز نہیں۔ رام اللہ حکومت وزارت تعلیم کے شعبے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔یاد رہے کہ مغربی کنارہ میں تعلیم اور دیگر شعبوں سے وابستہ سرکاری ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث ہڑتال پر ہیں، جس کے بعد عمومی زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین