فلسطینی حکام نے مصر اور غزہ کے درمیان رفح سرحدی راہداری کی یورپی یونین فوج کے ذریعے نگرانی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رفح کراسنگ کی نگرانی فلسطینی خود کریں گے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں بارڈر کراسنگ کے ڈائریکٹر جنرل ماہر ابو صبحہ نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ رفح کراسنگ کی سیکیورٹی فلسطین کا داخلی معاملہ ہے۔ کسی دوسرے ملک کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔
ماہر ابو الصبحہ کے بہ قول فلسطین ۔ اسرائیل سیز فائر کے بعد یورپی حکام نے رفح کراسنگ کا کنٹرول سنھبالنے کے لئے بات چیت کی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ اسی سرحدی گذرگاہ پر مریضوں کو مرتا چھوڑ کر چلے گئے تھے انہیں زمانہ امن دوبارہ رفح کراسنگ کی نگرانی کی بات زیب نہیں دیتی۔ رفح کراسنگ فلسطینیوں کے زیر کنڑول علاقہ ہے اور وہ اس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین فلسطینیوں کی مشکلات کے حل میں اگر کوئی دلچسپی رکھتی ہے تو اسے غزہ کا معاشی محاصرہ ختم کرانے اور جنگی تباہ کاریوں کے بعد شہر کی تعمیر نو میں مدد دینی چاہئے۔
خیال رہے کہ سنہ 2005ء فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان طے پائے ایک معاہدے کے تحت سرحدی کراسنگز پر یورپی یونین کی فوج تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ چند ماہ تک یورپی فوج رفح کراسنگ پر تعینات رہی لیکن سنہ 2006ء میں فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی کامیابی کے بعد یورپی فوج واپس چلی گئی تھی۔
حال ہی میں یورپی یونین کی وزیر خارجہ کیتھرین آشٹن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ای یو رفح کراسنگ پر حفاظتی انتظامات دوبارہ سنھبالنے کے لیے اپنے فوجیوں کی از سر نو تعیناتی پرغور کر رہی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
