مقبوضہ مغربی کنارے میں اساتذہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر حکمران جماعت ‘فتح’ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ تنخواہوں سے محروم قوم کے معماروں نے مشاہرہ ملنے تک تعلیمی بائیکاٹ اور مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غرب اردن کے شہر جنین میں اتوار کے روز وزارت تعلیم کے دفتر کے باہر اساتذہ نے دھرنا دیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر اساتذہ اور دیگر ملازمین کو فوری واجبات کی ادائیگی کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرے میں شامل اساتذہ نے رام اللہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور واجبات مزید لیٹ کرنے پر راست قدام کی دھمکی دی۔
خیال رہے کہ مغربی کنارے میں گزشتہ چار برسوں سے سرکاری ملازمین تنخواہ کی عدم ادائیگی، سیاسی بنیادوں پر برطرفیوں جیسی انتقامی کارروائیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ حکومت ملازمین کو تنخواہ ادا نہ کر سکنے کا سبب مالیبحران بیان کرتی ہے تاہم ملازمین کا کہنا ہے کہ تخت رام اللہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
