اسرائیلی جیلوں میں زیر حراست دو فلسطینیوں کی چھے ماہ سے جاری بھوک ہڑتال نے صہیونی حکومت کے خلاف فلسطینیوں کے غم و غصے میں اضافہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے
رضاکاروں اور سماجی تنظیموں نے ہڑتالی اسیران ایمن شراونہ اور سامر العیساوی کی حمایت میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس ‘فیس بک’ اور ‘ٹیوٹر’ پر مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد دونوں بھوک ہڑتالی محروسین کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کے اظہار کے ساتھ دنیا کو صہیونی جیلروں کے قیدیوں سے ظالمانہ برتاؤ سے بھی آگاہ کرنا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بھوک ہڑتالی اسیران ایمن اور سامر کی حمایت میں سوشل میڈیا پر یکجہتی مہم کا آغاز ہفتے کی صبح ہوا، تاہم پیر کو اسی مہم کے تحت یوم یکجہتی اسیران منایا جا رہا ہے۔ اس روز اندرون فلسطین اور بیرون ملک مقیم فلسطینی اور انسانی حقوق کے کارکن بھوک ہڑتالی اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سوشل میڈیا کی اس آگاہی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس ’فیس بک‘ اور ‘ٹیوٹر’ کے علاوہ نیوز پورٹلز، ریڈیو، ٹیلی ویژن چینلز اور اخبارات میں بھی ہڑتالی اسیران کے حق میں مہم چلائی جائے گی۔
مہم کے روح رواں سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ فیس بک کے ذریعے ایک کروڑ افراد تک فلسطینی اسیران کا مسئلہ پہنچائیں گے اور قومی سطح پر اسیران کے معاملے میں برتی جانے والی کوتاہی کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ بھوک ہڑتالی اسیران کو صہیونی مظالم سے نجات مل سکے۔ یکجہتی مہم کے دران بھوک ہڑتالیوں کی مشکلات کے بارے میں مختلف زبانوں میں میڈیا پر رپورٹس اور خبریں نشر کی جائیں گی اور اسیران کی پس دیوار زنداں تصاویر کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ فلسطینی اسیران ایمن الشراونہ اور سامر العیساوی پچھلے چھ ماہ سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ دونوں اسیران کو ایک سال قبل اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے نتیجے میں رہا گیا تھا، تاہم ان کی رہائی کے چند ہفتوں بعد انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔ دونوں اسیران نے دوبارہ حراست کے خلاف تادم رہائی بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ طویل ترین بھوک ہڑتال کے باعث دونوں اسیران کی زندگیاں خطرے دوچار ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی زندگی بچانے کے لیے اسرائیل پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
