فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام’’رملہ‘‘ جیل میں زیرحراست 17 فلسطینی اسیران مختلف مہلک امراض میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ جیل انتظامیہ کے ناروا سلوک اور تفتیش کاروں کے وحشیانہ تشدد کا سامنا کر رہے ہیں
جس کے باعث ان سترہ اسیران کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔ مریض اسیران نے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے انسانی حقوق کی تنظیموں سے مدد کی بھی اپیلیں کی ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رملہ جیل میں مریض اسیروں کے ایک وکیل نے بتایا کہ جیل کی انتظامیہ اسیران کے معاملے میں نہایت غفلت اور لا پرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اسیران کو کسی قسم کی طبی سہولت میسر نہیں ہے اور نہ ہی ان پر مظالم کم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تمام عالی تنظیموں اور زندہ ضمیر رکھنے والے عالمی رہ نماؤں سے زندگیاں بچانے میں ان سے مدد کی اپیل کی ہے۔
وکیل کے مطابق رملہ جیل کے ایک اسیر قیدی نے بتایا کہ اس کی طبی حالت اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہے اور وہ وہیل چیئر پر نقل وحرکت کرنے پر مجبور ہے۔ اس نے کہا کہ اگر کوئی زندہ اور درد دل رکھے والا شہری میری یہ حالت دیکھ لے تو وہ بھی روپڑے گا۔
اسیر کا کہنا ہے کہ میرے سمیت دیگر سولہ اسیران کے ساتھ ناروا سلوک کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے اور انہیں بنیادی ضرورت کی ادویات بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے مندوب نے بتایا کہ رملہ جیل میں زیر حراست مریض اسیران میں ناھض الاقرع، ریاض العمور، منصور موقدہ، ایدا رضوان، خالد الشاویش، کمال الحسنی، یوسف المصالحہ، شادی الرحاوی، امیر السعد، محمد السعد، محمود سلیمان، عثمان الخلیلی، معتصم رداد، سامر عویسات، عیسیٰ عبد ربہ، اکرم الرحاوی اور احمد عوض شامل ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
