تیونس کے وزیرصحت ڈاکٹر عبدالطیف المکی بدھ کو اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں پہنچے ہیں۔ دورے میں مصر میں متعین تیونسی سفیر اور ڈاکٹروں کا ایک وفد بھی غزہ آیا ہے جو اپنے ساتھ ادویہ اور دیگر طبی سامان بھی لائے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کےمطابق تیونسی وزیرصحت کا رفح کے مقام پر ان کے فلسطینی ہم منصب ڈاکٹر مفید المخلاتی اور دیگر حکام نے استقبال کیا۔ بعد ازاں تیونسی وفد ایک قافلے کی شکل میں وزیراعظم ہاؤس پہنچا جہاں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے دورہ غزہ کا مقصد محصورین اور جنگ زدہ شہریوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا ہے۔ ڈاکٹر المکی کا کہنا تھا کہ تمام عرب ممالک جس واحد کی طرح ہیں اور عرب اقوام نے اپنے اندر سے قوم دشمن لوگوں کو ایک ایک کر کے نکالنےکے لیے انقلابات کی تحریکیں شروع کی ہیں۔انہوں نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ جارحیت کو انسانیت کےخلاف جرم قرار دیا اور کہا کہ مسلمان کسی صورت میں صہیونیوں کو فلسطینیوں کا قتل عام نہیں کرنے دیں گے۔ ڈاکٹر المکی نے عالمی برادری سے اسرائیل کے ٹرائل کا مطالبہ کیا۔
تیونسی وزیرصحت آج مختلف اسپتالوں کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ جنگ کے دوران زخمی ہونے والوں کی عیادت کے بعد شہداء کے خاندانوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ آخر میں وہ فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ سے ملاقات کے بعد واپس قاہرہ روانہ ہوجائیں گے، تاہم ان کے ساتھ آیا طبی عملہ زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے مزید کچھ دن کے لیے غزہ ہی میں قیام کرے گا۔
